برطانیہ میں باحجاب مسلم لڑکی نے گُھڑ دوڑ جیت کر تاریخ رقم کر دی

برطانیہ میں پہلی بار مسلم لڑکی خدیجہ ملاح نے حجاب پہن کر گھڑ دوڑ جیت کر تاریخ رقم کر دی۔

18 سالہ برطانوی شہری خدیجہ ملاح نے گُڈ وُڈ میں منعقد گُھڑ دوڑ کے ‘مگنولیا کپ’ میں حجاب پہن کر حصہ لیا۔

خدیجہ نے دیدہ دلیری سے نہ صرف تمام کھلاڑیوں کا مقابلہ کیا بلکہ اس میں کامیابی بھی حاصل کی۔

انہوں نے اس دوڑ میں سابق اولمپکس سائیکلسٹ وکٹوریا پینڈلٹن اور ووگ ولیمز سمیت 10 کھلاڑیوں سے شاندار مقابلہ کر کے جیت اپنے نام کر لی۔

خدیجہ ملاح کا کہنا تھا کہ مقابلہ کافی زبردست تھا اور انہیں بہت مزہ آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لڑکیوں کے لیے روایتی سوچ رکھی جاتی ہے کہ وہ کھیلوں میں حصہ لینے کے شوق اور خواب کو پورا نہیں کر پاتی ہیں لیکن میں خوش ہوں کہ میں اس معاشرے کا حصہ ہوں جہاں یہ سمجھ ہے کہ خواتین کیا کر سکتی ہیں اور وہ کس میں بہترین ہو سکتی ہیں۔

خدیجہ کہتی ہیں کہ انہوں نے یہ دوڑ جیتنے کے لیے کئی راتیں جاگی ہیں جب کہ دلچسپ بات یہ ہے اس مقابلے میں حصہ لینے سے 4 ماہ قبل تک وہ گھوڑے پر بیٹھنا بھی نہیں جانتی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ میں ان تمام لڑکیوں کے لیے رول ماڈل بننا چاہتی ہوں جو کچھ کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ بھروسہ نہیں کر پاتی کہ وہ اپنی ترجیحات کو چھوڑے بغیر سب کچھ کر سکتی ہیں۔

برطانیہ کی ویمن اسپورٹس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ مسلم لڑکیوں کے لیے خدیجہ جیسی رول ماڈل ہونا ضروری ہے تاکہ انہیں پتا چل سکے کہ وہ بھی اپنے خواب پورا کر سکتی ہیں۔