بلاول بھٹو نے کسے کر دیا چیلنج؟ 90 دنوں کے پس پردہ کیا ہے کہانی؟ سب جانیے اس خبر میں

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ2007سے سندھ حکومت کوہٹانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ سندھ حکومت کوہٹانے کاخواب دیکھنے والے چلے گئے۔ سندھ حکومت آج بھی ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت ہٹا کر دکھائیں، نوے دن میں پھر واپس آؤں گا۔ سندھ حکومت تاریخ میں سب سے بڑی اکثریت ہے،انہوں نے کہا کہ گھوٹکی میں ضمنی انتخاب ہم نے جیت کردکھایا۔  گھوٹکی کے انتخاب میں مخالفین کو عبرت ناک شکست دی۔ 
چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہناتھا کہ پہلے صادق سنجرانی متفقہ امیدوار تھے آج حاصل بزنجو ہیں۔  کل کوئی صورتحال تبدیل ہوتی ہے تو کوئی اور متفقہ امیدوار بن سکتا ہے۔  بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا نیب کے بارے میں موقف واضح ہے کہ یہ کالاقانون ہے،نیب قوانین کیخلاف آج بھی کوشش کررہے ہیں۔ 
ہم بھی چاہتے ہیں احتساب کا کوئی ادارہ ہو۔ نیب سیاسی انتقام کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ حکومت کو بھارتی جارحیت کا معاملہ مکمل سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے فورم پر مسئلہ کشمیر کو حل ہوناچاہیے۔  مسئلہ کشمیر پر تیسرے فریق کی ثالثی پر بہت محتاط رہنا ہو گا۔
مودی حکومت کوبے نقاب کرنے کیلئے موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسئلہ فلسطین ذہن میں رکھنا چاہیے۔  مسئلہ کشمیر پر ویسا نہیں ہونا چاہیے جیسا ٹرمپ نے فلسطین میں کیا۔