چیئرمین علماء کونسل طاہر اشرفی کے خلاف ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرلیا

ایف آئی اے نے چیئرمین علماء کونسل طاہر اشرفی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، ایف آئی آر کے میں کہا گیا ہے کہ طاہر اشرفی منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے۔
ایف آئی اے نے پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین طاہر اشرفی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرلیا، ایف آ ئی اے نے مقدمہ ایف اے ٹی ایف کے تحت درج کیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ طاہر اشرفی منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے ہیں، طاہر اشرفی کے بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں کی غیرملکی فنڈنگ ہوئی۔
مذکورہ فنڈنگ نارویجین چرچ، جرمن سفارت خانے کی جانب سے کی گئی، متن کے مطابق امکان ہے کہ طاہر اشرفی کو ملنے والے فنڈز دہشت گردی میں استعمال ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ سال 2017 کی ایک دستاویز کے مطابق پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین طاہر اشرفی نے ایک امریکی این جی اوز سے90 ہزار ڈالر اور جرمن سفارت خانے سے43 لاکھ روپے وصول کیے جس کی دستاویزات منظرعام پر آگئیں، جبکہ طاہراشرفی نے اس وقت اس کی تردید کردی تھی۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان علماء کونسل کے چئیرمین طاہر اشرفی نے دہشت گردی کے رحجانات کے خاتمے کی مد میں امریکی این جی او آئی سی آر ڈی سے90 ہزار ڈالر لیے۔
دستاویز کے مطابق امریکی این جی او سے جو رقم وصول کی گئی وہ پاکستانی کرنسی میں آج کے حساب سے تقریبا 94ایک کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔ علاوہ ازیں طاہراشرفی نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا اور دینی مدارس میں دہشت گردی کے رحجانات کی مانیٹرنگ کے لیے جرمن سفارت خانے سے بھی رقم وصول کی۔ دستاویز کے مطابق کیولری گراؤنڈ کے نجی بینک اکاؤنٹ میں ان کے لیے43 لاکھ 44 ہزار روپے کی فنڈنگ جمع کرائی گئی۔
اس حوالے سے طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ امریکی این جی او اور جرمن ادارے فنڈنگ کی تردید کرچکے ہیں، اس کے علاوہ جرمن سفیر نے بھی کئی مرتبہ اس بات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ طاہراشرفی نے کہا کہ میں نے پاکستان اوراسلام دشمنی کا کبھی کوئی کام نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان کےخلاف کبھی کوئی بات کی، میری زندگی کی جدوجہد اسلام اور پاکستان کے لیے ہے، اگر دہشت گردی کے خلاف بات کرنا جرم ہے تو میں یہ جرم کرتا رہوں گا۔