کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے: وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کے الحاق کے لئے مذموم بھارتی اقدام کوسنگین تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو نئی تقویت ملے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں اپنے دفترمیں سینئر صحافیو ں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے اقدام کے پس پردہ صرف مفاد نہیں بلکہ یہ ہندو نسل پرستی اور بالادستی کے پروردہ نظریے پرمبنی اوچھا ہتھکنڈہ ہے۔
عمران خان نے کہاکہ بھارت کے حالیہ اقدامات نے ہٹلر کے نازی ازم کی یادتازہ کردی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی وہا ں موجود بھارتی فورسز کے جبر واستبداد اور کشمیریوں کے دل ودماغ جیتنے میں بھارت کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان نے پیشگی اندازہ لگالیا ہے کہ کرفیو اٹھانے کے بعد مقبوضہ وادی کی صورتحال تیزی سے خراب ہوسکتی ہے اور پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کے لئے وہاں بڑی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
عمران خان نے عالمی برادری سے کہاکہ وہ اس صورتحال کے مداوا کے لئے اپنا کردار اداکرے اور کشمیریوں کی نسل کشی بند کرائے۔
انہوں نے کہاکہ بھارت میں بھی ذی شعوراوردوراندیش حلقوں نے اس معاملے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیرکے الحاق کی سازش کو تاریخی قرار دیاہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ یہ مسئلہ جنگ سے حل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ تباہ کن ہوگی۔ ایک باراگرجنگ شروع ہوگئی تواسے ختم کرناکسی کے اختیار میں نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیرکی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش جنیوا کنونشن کے آرٹیکل انچاس کی خلاف ورزی ہے۔