امریکا اور طالبان امن معاہدے کے قریب، امریکی صدر نے وزیراعظم عمران کی کونسی دعوت قبول کرلی؟ جانئے خبر میں

امریکا اور طالبان امن معاہدے کے قریب پہنچ گئے، جلد ڈیل پر دستخط ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے اور امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ افغانستان اور پاکستان بھی جلد متوقع ہے۔
امریکی حکام اور طالبان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اٹھارہ سالہ جنگ اور متعدد تناؤ اور تنازعہ کے بعد بھی امن کے قریب ہیں، فریقین کے درمیان بہت جلد حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔
امریکی جریدے کے مطابق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد اپنی زندگی کے سب سے مشکل معاہدے کو بند کرنے کے لئے پوری کوشش کررہے ہیں، ایک ایسا امن معاہدہ جس سے امریکی افواج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دو ہزار بیس کی انتخابی مہم کا ٹائم ٹیبل پورا کرنے کے لئے کافی تیزی سے پیچھے ہٹنا پڑیں گے لیکن وہ اس معاہدے کو خریدیں گے۔
دوسری طرف طالبان کمانڈروں نے جنہوں نے تیس سال قبل آخری سوویت افواج کو افغانستان سے نکال دیا تھا، امریکی قیادت میں اتحاد کو خونی تعطل کا مقابلہ کیا ہے اور اب بھی یہ افغان فورسز سے لڑرہے ہیں جبکہ بات چیت جاری ہے۔
خلیل زاد اور طالبان کے چیف مذاکرات کار ملا عبد الغنی برادر دونوں اب نجی طور پر اتحادیوں کو بتا رہے ہیں کہ وہ ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں جس میں روایتی امریکی افواج کو نومبر دو ہزار بیس کے اختتام سے قبل امریکی صدارتی انتخاب کے فورا بعد دستبردار ہونا پڑے گا۔
حکام نے بتایا کہ تاہم ایک بڑی رکاوٹ باقی ہے، طالبان نے حتمی ڈیل سے قبل امریکی انسداد دہشت گردی فورس اور انٹیلیجنس یونٹ کے خاتمہ کا مطالبہ کردیا ہے۔
افغانستان میں امریکی کمانڈر، آرمی جنرل آسٹن "اسکاٹ” ملر نے بین الاقوامی عہدیداروں کو بتایا ہے کہ اگر اس کا مشن القاعدہ اور داعش، خراسان جنگجوؤں کا شکار کرنے تک ہی محدود ہے تو وہ اشرافیہ کے خصوصی آپریشن یونٹوں اور قریبی فضائی مدد کے ساتھ ایسا کرسکتا ہے۔