مسئلہ کشمیر پر کسی عسکری آپشن کے استعمال کے امکان کو رد کرتے ہیں: ملیحہ لودھی

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ کسی عسکری آپشن کے استعمال کے امکان کو رد کرتے ہیں، ہمارے پاس تمام سفارتی اور سیاسی آپشن موجود ہیں اور بھارت کی جانب سے بڑھائے گئے بحران کو مزید بڑھانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات کیخلاف سلامتی کونسل جائیں گے اور سلامتی کونسل اور اسکے ارکان کو ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائیں گے۔پاکستانی مندوب کا مزید کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔انٹرویو کے دوران میزبان نے ملیحہ لودھی کی توجہ وزیر خارجہ شاہ محمود کے بیان کہ عسکری ردِ عمل نہیں دینا چاہتے اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے بیان کہ کشمیریوں کی حمایت میں کسی بھی حد تک جائینگے کے درمیان بظاہر تضاد کی طرف دلائی تو لودھی کا کہنا تھا کہ ہم بہت کلیئر ہیں کہ ہمارے پاس سارے سیاسی اور سفارتی آپشن میز پر موجود ہیں۔ یہ پورا بحران اس ریاست کے لوگوں کے بارے میں ہے، چاہتے ہیں کہ عالمی برادری قانون، انصاف اور اصولوں کے لیے کھڑی ہو تاکہ اس ریاست کے لوگوں کی مشکلات حل کی جا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی کے لوگوں کو 70 سال سے آزادی سے محروم رکھا گیا ہے اور انھیں شناخت سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ حالیہ تبدیلیاں مودی سرکار کو جموں و کشمیر کی آبادی میں تبدیلی لانے میں مدد دیں گی اس لیے اس سے جموں و کشمیر کے لوگوں کی شناخت خطرے میں ہے۔ دوسری طرف پاکستانی سفیر اسد مجید نے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے، پاکستان کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھائے گا جو امن کیلئے خطرہ بنے، امریکا کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرتا ہے، وادی کی خود مختاری ختم کرنے پر ٹھوس بیان آنا چاہیے۔