بھارتی میجر جنرل جسوال کا کورٹ مارشل

بھارتی حاضر سروس میجر جنرل جسوال کے خلاف ایک خاتون کیپٹن کو جنسی طور پر ہراساں کرنے پر شکایت 2016ء میں درج کرائی تھی جب جسوال چندی مندر میں تعینات تھے اور شکایت کنندہ خاتون کیپٹن ان کے ماتحت تھی۔
آسام رائفل میں تعینات میجر جنرل جسوال کے خلاف کورٹ مارشل مکمل ہوگیا، جس میں پنشن کی ادائیگی کے بغیر ان کی ملازمت کی برخاستگی کی سفارش کی گئی تھی جس کی اب آرمی چیف بپن راوت نے توثیق کردی ہے۔
میجر جنرل آر ایس جسوال کا کورٹ مارشل آرمی چیف بپن راوت کی ہدایت پر گزشتہ برس دسمبر میں شروع کیا گیا تھا جب کہ کورٹ مارشل نے اپنا فیصلہ گزشتہ ماہ جولائی میں پیش کردیا تھا جس کی اب توثیق کردی گئی ہے۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں جب خاتون فوجی اہلکار یا افسر کی جانب سے جنسی ہراسگی کے الزامات سامنے آئے ہیں بلکہ اس سے قبل ڈیفنس پریڈ میں حصہ لینے والی کم سن اہلکار نے بھی اپنے سینئر پر جنسی ہراسمنٹ کے الزامات لگائے تھے اور می ٹو مہم کے دوران کیپٹن نیہا راوت نے میجر جنرل اے کے لعل پر ہراسمنٹ کے الزامات عائد کیے تھے۔