ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ معاہدے کا اشارہ دے دیا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت امریکا کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کا اجلاس ہوا جس میں ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ معاہدے کی تیاری کا اشارہ دے دیا اور افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی اور طالبان سے امن معاہدے پر غور کیا گیا۔
اس حوالے سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے رواں ہفتے ہی قطے جائیں گے۔
اجلاس کے دوران امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو اور قومی سلامتی ٹیم کے دیگر ممبران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو افغان امن عمل پر بریفنگ دی۔ بعد ازاں ہم صڈر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں جانفشانی کے ساتھ آگے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
2001 سے افغانستان میں جاری جنگ میں اب ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کی ضرورت پر تذبذب کا شکار ہیں۔ اب تک افغانستان میں جاری جنگ کے دوران 2 ہزار 4 سو امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔
اعلیٰ سول و عسکری حکام کے اجلاس کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ممکن ہوسکے تو اس 19 سال سے جاری جنگ کے دونوں حریف اب ایک معاہدے کی جانب دیکھ رہے ہیں۔
 

Just completed a very good meeting on Afghanistan. Many on the opposite side of this 19 year war, and us, are looking to make a deal – if possible!
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) August 16, 2019