تھر کے طلباء کے لیے خوشخبری، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا اب آسان

این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے سندھ کے علاقے تھر میں باقاعدہ کیمپس قائم کرتے ہوئے رواں سال ہی بیچلرآف انجینئرنگ میں داخلے شروع کرنے کی تیاریاں کر لی ہیں، اس طرح تھرسمیت پورے میرپور خاص ڈسٹرکٹ میں سرکاری سطح پر یہ پہلا ادارہ ہوگا جس میں اعلیٰ تعلیم دی جاسکے گی۔
پہلی بار کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں داخلے دیے جارہے ہیں جبکہ تھرمیں خدمات دینے والے اساتذہ کودگنی تنخواہوں کی پیشکش کی گئی ہے۔ این ای ڈی یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سروش لودھی نے نے  بتایا کہ تھرمیں قائم کیے جانے والے کیمپس کو ’’تھرانسٹی ٹیوٹ آف انجنیئرنگ سائنسز اینڈ ٹٰیکنالوجی این ای ڈی یونیورسٹی‘‘کانام دیا گیا ہے جس میں پہلی بارکمپیوٹر سائنس کے شعبے میں داخلے دیے جا رہے ہیں۔
داخلوں کے خواہشمند طلبا 31اگست کواین ای ڈی یونیورسٹی کراچی کے مرکزی کیمپس میں ہونے والے داخلہ ٹیسٹ میں ہی شریک ہوسکیں گے ۔ مذکورہ کیمپس میں کمپیوٹرسائنس کے داخلوں کے لیے 60 نشستیں مختص کی گئی ہیں اوراین ای ڈی یونیورسٹی کی پالیسی کے مطابق بیشتر نشستیںمیرپورخاص تعلیمی بورڈ سے انٹر کرنے والے طلبہ کے لیے ہیں جبکہ دیگرتعلیمی بورڈزکے طلبہ کے لیے بھی کچھ نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
ایک سوال پر ڈاکٹرسروش لودھی نے بتایاکہ فوری طورپرکیمپس قائم کرکے داخلے شروع کرنے کے لیے سندھ اینگروکول مائننگ کمپنی سے ایک معاہدے کے تحت دوسال کے لیے تھر کے علاقے اسلام کوٹ میں اسکول کی عمارت حاصل کی گئی ہے جو 5 ایکڑپرقائم ہے جبکہ اساتذہ اورطلبہ کی رہائش کے لیے علیحدہ علیحدہ دوعمارتیں کرائے پرلی جارہی ہیں ۔
حکومت سندھ نے تھرکیمپس کوفعال کرنے کے لیے فوری طورپر 200ملین روپے کی گرانٹ منظورکردی ہے جوعیدکے فوری بعد جاری ہونے کی امیدہے۔ تھرکیمپس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وائس چانسلراین ای ڈی یونیورسٹی کا مزیدکہنا تھا کہ اس کیمپس کے انتظامی واکیڈمک معاملات کاکنٹرول مکمل طورپر این ای ڈی یونیورسٹی کے پاس ہوگا۔
وائس چانسلرکا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں تھرکیمپس میں پرنسپل کاتقررآئندہ چند روزمیں ہوجائے گا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے سینیئراساتذہ کوپرنسپل کے عہدے کی پیشکش کی ہے جبکہ کمپیوٹرسائنس کی فیکلٹی کے لیے بھی اساتذہ کوخطوط بھجوادیے گئے ہیں جواساتذہ اورغیرتدریسی عملہ وہاں جانا چاہے اسے حکومت سندھ سے باقاعدہ منظوری کے ساتھ دگنی تنخواہیں دی جائیں گی۔
حکومت سندھ نے تھرکیمپس کے لیے 317ایکڑاراضی دینے کا عندیہ دیا ہے اور دوسال میں 850ملین روپے بطور ڈیولپمنٹ گرانٹ بھی منظورکی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کہ طلبہ اوراساتذہ کی رہائش کے لیے جوعمارت کرائے پر لی جارہی ہے اس میں فیکلٹی اپنا کرایاخود دے گی جبکہ طلبہ کے لیے رہائشی ہاسٹل کے اخراجات میں سے کچھ طلبہ سے لیاجائے گاجبکہ کچھ یونیورسٹی اداکرے گی۔
فیسوں کے حوالے سے  ڈاکٹرسروش لودھی کا کہنا تھا کہ اس کیمپس کوبہترانداز میں چلانے کے لیے فیس اسٹرکچر این ای ڈی کے مرکزی کیمپس کے فیس اسٹرکچرسے کچھ زیادہ رکھا گیا ہے اورداخلے کے وقت طلبہ کو 62 ہزارروپے تک فیس اداکرنی ہوگی جبکہ دیگرسیمسٹرکی فیس این ای ڈی کی فیسوں کے تقریباً مساوی ہوگی۔ داخلوں کاطریقہ کاراورمیرٹ یونیورسٹی کی اپنی پالیسی کے مطابق ہی رکھا گیا ہے۔