نیب سپروائزری کمیٹی کی منظوری کے بغیر کسی بھی سول سروس ملازم کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا

سول سروس اصلاحات کے سلسلے میں تشکیل دی گئیں 2 ٹاسک فورسز نے تجویز دی ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سپروائزری کمیٹی کی منظوری کے بغیر کسی بھی حاضر سروس یا ریٹائرڈ سول سروس ملازم کے خلاف کارروائی نہ کرے۔
اس قسم کی تجاویز کو وفاقی حکومت کو ارسال کرنے کا فیصلہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا تھا جس کی سربراہی وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور سادگی ڈاکٹر عشرت حسین نے کی تھی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وکیل سلمان اکرم راجہ نے یہ ترامیم نیب کی قانون سازی کے لیے ارسال کردی ہیں۔ جس کے مطابق کوئی تفتیش، ریفرنس یا گرفتاری اس وقت تک عمل میں لائی نہیں جاسکتی جب تک نیب اس کی وجوہات سپروائزری کمیٹی کے سامنے منظوری کے لیے نہ پیش کردے۔
اس صورت میں سپروائزری کمیٹی اس بات کا جائزہ لے کہ آیا فراہم کیے گئے ثبوت قابل تفتیش اور قابلِ گرفتاری ہیں، اس حوالے سے بیورو کی مدد کرے گی۔
یہ طریقہ کار ہر اس فرد کے لیے استعمال کیا جائے گا جو سول سروس سے کسی بھی طرح منسلک ہو یعنی کانٹریکٹ بنیاد یا ریٹائرڈ ملازم ہو تاہم یہ بات مدِ نظر رہے اس سے مراد صرف سرکاری ملازمین ہیں، سرکاری عہدوں پر موجود سیاسی شخصیات نہیں۔
مذکورہ سپروائزری کمیٹی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج، وفاقی حکومت میں بطور سیکریٹری یا اس سطح کے عہدے پر فرائض انجام دینے والے 3 افراد پر مشتمل ہے، جس کی ریٹائرمنٹ کی مدت کو سپروائزری کمیٹی میں شمولیت سے قبل 2 سال ہوچکے ہوں۔
سلمان اکرم راجہ کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کے 15 اراکین اکثریتی ووٹ کی بنیاد پر سپروائزری کمیٹی کا انتخاب کریں گے جبکہ پارلیمانی کمیٹی کے اراکین کو ان پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہ نامزد کریں گے جن کی ایوان میں 10 سے زائد نشستیں ہوں۔
دوسری جانب پارلیمانی کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ حکومت کے نامزد کردہ افراد کو مسترد کر کے نئے نام شامل کرلے۔ اجلاس میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ اس قسم کی سپروازری کمیٹی ایک یا ایک سے زائد ہوں، جو وفاق کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح اور گلگت بلتستان میں بھی کام کریں۔
اس طرح نیب کو جب بھی کسی سرکاری ملازم کے خلاف ریفرنس، تفتیش کا آغاز یا اس کو گرفتار کرنا ہو تو اس کے لیے سپروازری کمیٹی کی منظوری لازمی ہوگی۔
اجلاس میں شامل ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ تجاوز منظوری کے لیے حکومت کو بھجوائی جائیں گی اور اگر ان پر عملدرآمد ہوگیا تو یہ سرکاری افسران کی جانب سے نیب کے خلاف نامناسب رویے کی شکایات کا جواب ہوگا۔