امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عمران خان کو سیکرٹ ٹیلی فون، کس معاملے میں پاکستانی وزیر اعظم سے مدد طلب کی ہے؟ بڑی خبر آگئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کی حراست میں تین مغوی امریکی سفارتی اہلکاروں کی رہائی کے لئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے مدد طلب کی ہے اور کہا ہے کہ ان امریکیوں کو رہا کروانے کے لئے پاکستان اپنی فوری اور سرتوڑ کوششیں بروئے کار لائے جس کے بعد پاکستانی وزیر اعظم نے امریکی صدر سے پاک بھارت…
وفاقی دارالحکومت کے متبر ذرائع نے ”پاکستان“ کو بتایا ہے کہ تین روز قبل امریکی صدر نے وزیر اعظم پاکستان کو ٹیلیفون کیا تو عمران خان اپنے نجی رہائش گاہ بنی گالہ میں موجود تھے وائٹ ہاﺅس کے سپیشل سیکرٹری کے رابطہ کرنے پر بتایا گیا کہ پاکستانی وزیر اعظم گھر پر ہیں تو کہا گیا کہ امریکی صدر آفیشل سیکرٹ کال چاہتے ہیں جس کیلئے وزیر اعظم پاکستان کو پی ایم آفس کے آفیشل لینڈ لائن پر کال سننا ہو گی عمران خان عجلت میںوزیر اعظم پی ایم آفس پہنچے جہاں 17منٹ تک ٹرمپ اور عمران خان میں گفتگو ہوتی رہی امریکی صدر کا کہنا تھا تین امریکی سفارتی اہلکاروں کو طالبان نے اغواءکر کے کابل کے نزدیک کسی پہاڑی علاقے میں چھپا رکھا ہے ان کی بحفاظت رہائی فوری ضروری ہے۔
اس مسئلے پر امریکی حکومت اور پوری قوم کو سخت تشویش ہے اور اس امر کا بھی غالب امکان ہے کہ اس واقعہ کے بعد دوہا میں جاری امریکہ طالبان مذاکرات تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے امریکی صدر کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اس معاملے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے اس موقع پر وزیر اعظم نے امریکی صدر سے کہا کہ آپ کو ہمارے خطے میں کشیدگی کی صورتحال کابخوبی علم اور بھارت کشمیر کے حوالے سے جو ظالمانہ اور غصبانہ اقدامات کر رہا ہے پاکستانی قوم سمیت پورا عالم اسلام اس پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار بھی کر رہا ہے ۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ عمران خان نے امریکی صدر کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے امن کی خواہش کو کسی طور ہماری کمزوری سمجھا نہ جائے ہم جنگ میں پہل نہیں کرنا چاہتے لیکن بھارت اپنے ناپاک عزائم سے باز نہ آیا تو پاکستان انتہائی اقدام پر مجبور ہو گا۔امریکی صدر کا جواب میں کہنا تھا کہ ہم نے پہلے بھی ثالثی کی پیشکش کی ہے اور اب بھی میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات خوش اسلوبی سے طے کرنے کے خواہشمند بھی ہیں امریکہ اس حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا اور ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ خطے میں امن بحال رہے ۔اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکی صدر کے ٹیلیفون کے بعد حکومت پاکستان نے وزیر اعظم عمران کی ہدایت پر ایک پانچ رکنی اعلیٰ سطح وفد طالبان سے مذاکرات کے لئے ایک دو روز میں افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو مغوی امریکیوں کی رہائی کے لئے باضابطہ کوشش کرے گا۔