افغانستان میں‌ خانہ جنگی کا آج آخری دن ؟ دوحہ میں‌ مذاکرات حتمی مراحل

افغانستان میں گزشتہ 18 سال سے خانہ جنگی جاری ہے جس کے دوران لاکھوں افراد اپنی جانوں کو گنوا چکے ہیں اور قرب و جوار کے ممالک پر بھی اس کے نہایت منفی اثرات رونما ہوئے ہیں۔ افغان طالبان نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ آج ان کے امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات مکمل ہو جائیں گے۔
مذاکرات کی تکمیل کے بعد امن سمجھوتہ طے پائے گا تو اس کے ساتھ ہی عالمی ذرائع ابلاغ میں شد و مد سے یہ استفسار کیا جانے لگا ہے کہ کیا آج عرصے سے افغانستان میں جاری خانہ جنگی کا آخری دن ہے ؟
افغان طالبان کی جانب سے اس امید کا اظہار اس وقت کیا گیا جب تین دن قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ان کے امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات کے نویں دور کا آغاز ہوا جسے فریقین کی جانب سے فیصلہ کن دور بھی قرار دیا جارہا ہے۔ امن مذاکرات گزشتہ ایک سال سے جاری ہیں اور اس دوران فریقین کے درمیان باضابطہ بات چیت کے آٹھ ادوار ہو چکے ہیں۔
افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس مرتبہ انشا اللہ ہر چیز طے ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ طریقہ کار کی تفصیلات طے کی جارہی ہیں تاکہ امریکی قیادت والی غیر ملکی افواج کے انخلا کا معاملہ طے کیا جا سکے۔
ایک سوال پر طالبان ترجمان نے کہا کہ جو طریقہ کار طے کیا جارہا ہے اس میں امریکی فوجی انخلا کی تمام تر جزئیات طے ہوں گی اور یہ بھی حتمی طور پر درج ہوگا کہ افواج کے انخلا کا آغاز کس علاقے سے ہوگا؟ اور پورے عمل میں کتنا عرصہ درکار ہوگا؟
ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بات چیت اس وقت کی جب امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا نواں دور دوحہ میں جاری تھا اور ہفتے کی شب تھی۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آج بروز اتوار حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔
افغان طالبان سے بات چیت میں امریکی وفد کی قیادت کرنے والے افغان نژاد زلمے خلیل زاد گفتگو مکمل کرنے کے بعد کابل کا دورہ کریں گے جس میں افغان قیادت کو تمام تر تفصیلات بتائیں گے۔
افغان طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے حتمی سمجھوتے پر عالمی ضمانت دہندگان کی موجودگی میں دستخط ہوں گے۔ عالمی ضمانت دہندگان میں پاکستان، چین، روس، اور افغانستان سمیت اقوام متحدہ بھی شامل ہے۔
افغان طالبان سے امریکہ کے ہونے والے معاہدے کے بعد 2020 کے آخر تک افغانستان س تمام غیر ملکی افواج نکل جائیں گی جن کی تعداد تقریباً 20 ہزار بتائی جاتی ہے۔
عاللمی سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت افغانستان میں قیام امن کا اندرونی طورپر بڑا مخالف ہے کیونکہ وہاں سے اسے پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے اور شرپسندانہ کارروائیاں کرنے کا راستہ ملتا ہے۔