گلگت بلتستان کے پہلے دورے کے بعد مجھے نیب کا نوٹس ملا تھا، اس دورے کے بعد بھی کچھ نہ کچھ ملے، بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے خود کو عوام کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے کیونکہ وہ جو وعدے کرتے ہیں اس کا اُلٹ کرتے ہیں۔
اسکردو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو علم ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے، وہ پیپلز پارٹی کے ہر اقدام کو فالو کر رہی ہے، لگتا ہے حکومت اپوزیشن کر رہی ہے، اب اگر حکومت خود ہی اپوزیشن کرے گی تو حکومت کون کرے گا؟
بلاول نے کہا کہ فریال تالپور کو رات 12 بجے غیر آئینی طریقے سے جیل منتقل کیا گیا کیونکہ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لیے اپوزیشن کو دیوار سے لگا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی وفاقی جماعت ہے جس کا عوام کے ساتھ پرانا رشتہ ہے، پیپلز پارٹی فاشسٹ نہیں نظریاتی پارٹی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ میں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کے ادھورے مشن کو پورا کرنے کے لیے نکلا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کےحقوق کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے اور یقین ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق دلواؤں گا۔
وزیراعظم عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ جو ہم سے آئینی حقوق چھین رہا ہے وہ کیسے گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق دلوائے گا۔
مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوجی جارحیت پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جب سے ہوش سنبھالا مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم دیکھ رہے ہیں۔
بلاول نے مودی پر برستے ہوئے کہا کہ وہ گجرات کا قصائی ہے جس نے مقبوضہ کشمیر کو کھلی جیل اور معاملے کو فلیش پوائنٹ بنا دیا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ دنیا میں جہاں بھی جاؤں گا کشمیر کے کاز پر آواز بلند کروں گا، مظلوم کشمیریوں کے بنیادی حقوق کے لیے ہر سطح تک جانے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مودی وزیراعظم منتخب ہوا تو اسے قانونی حیثیت دے کر پاکستان نے اسٹریٹجک غلطی کی، پاکستان میں دفتر خارجہ کو کمزور کیا گیا اور سفارت کاری جاننے والی شخصیات کو پیچھے چھوڑ دیا گیا لہذا پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
بعدازاں بلاول بھٹو نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے پہلے دورے کے بعد مجھے نیب کا نوٹس ملا تھا، اس دورے کے بعد بھی کچھ نہ کچھ ملے گا۔