نئی تحقیق نے سائنسی دنیا کو حیران کردیا، پلاسٹک بنا غذا کا اہم جزو

پلاسٹک کی وجہ سے انسانی زندگی بہت متاثر ہوئی ہے لیکن اب اِس مسئلے کا حل نکل گیا ہے اور ایسا پلاسٹک تیار کیا ہے جو نہ صرف بائیو ڈیگریڈیبل ہے بلکہ اُسے کھایا بھی جا سکتا ہے۔
اِس منفرد پلاسٹک کی تیاری کا خیال کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر انجم نواب کو آیا۔ ڈاکٹر انجم نے  بتایا کہ بائیو ڈیگریڈیبل اور ایڈیبل (جسے کھایا بھی جا سکے) کی اصطلاح آج کل ایک ہی معنی میں استعمال ہوتی ہے۔
’آسان الفاظ میں اگر کوئی چیز بائیو ڈیگریڈیبل ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ استعمال کے بعد جب اُس کو پھینک دیا جائے گا تو فضا میں موجود جراثیم اُسے ختم کر دیں گے۔‘
ڈاکٹر انجم نواب نے بتایا کہ اگر جراثیم کسی چیز کو ختم کر سکتے ہیں تو پھر اِسے انسانوں کے کھانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
’یہ پلاسٹک کیونکہ قدرتی اجناس سے کشید کیے جانے والے اجزا سے تیار کیا گیا ہے لہذا اِسے کھایا بھی جا سکتا ہے۔ ایسے پلاسٹک کو نیم گرم پانی میں گھول کر بھی تلف کیا جا سکتا ہے۔‘
ماحول دوست پلاسٹک کے برعکس پیٹروکیمیکلز کے ذریعے تیار کیے جانے والے پلاسٹک کو فضا میں موجود جراثیم ختم نہیں کر سکتے اور اس سے تیار کی جانے والی اشیا سیکنڑوں سال تک ماحول میں موجود رہتی ہیں اور آلودگی کا باعث بنتی ہیں۔
آموں کا موسمجامعہ کراچی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر انجم نواب کا پی ایچ ڈی کا مقالہ کھانے پینے کی اشیا کی پیکجنگ کے لیے قدرتی اجناس کے فضلے سے تیار کیے جانے والے پلاسٹک کی تیاری پر تھا۔
’اُس زمانے میں آموں کا سیزن چل رہا تھا تو مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ آم کی گٹھلی سے بائیو ڈیگریڈیبل اور ایڈیبل پلاسٹک تیار کرنے کا تجربہ کیا جائے۔‘
پاکستان میں آم کافی مقدار میں پیدا ہوتا ہے اور پراسیسنگ پلانٹس سے نکلنے والا فضلہ جانوروں کی خوراک کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔’
ڈاکٹر انجم نواب بتاتی ہیں کہ پلاسٹک کی تیاری میں آم کی گٹھلی کھول کر اُس میں سے بیج نکالا جاتا ہے اور پھر اُس بیج سے سٹارچ یا نشاستہ کشید کیا جاتا ہے۔ اِس کے بعد اُس سٹارچ میں مختلف اجزا شامل کر کے پلاسٹک کی شکل دے دی جاتی ہے۔
ڈاکٹر انجم کا دعویٰ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ایڈیبل بائیو ڈیگریڈیبل پلاسٹک تیار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن جامعہ کراچی میں تیار کیا جانے والا پلاسٹک اس لیے مختلف ہے کہ یہ آم کی گٹھلی سے تیار کیا جا رہا ہے۔ماحول دوست پلاسٹک کا استعمالماہرین کا خیال ہے کہ ایڈیبل بائیو ڈیگریڈیبل پلاسٹک کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر انجم نواب کہتی ہیں کہ اِس پلاسٹک کے شاپنگ بیگز تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا میں استعمال ہونے والی رواتی پیکجنگ کو اِس پلاسٹک سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
‘ہم نے مصالحاجات کی موجودہ المونیم کی پیکنگ کو ماحول دوست پلاسٹک سے تبدیل کر کے دیکھا تو اُن کی شیلف لائف میں قابلِ ذکر اضافہ ہو گیا۔’
ڈاکٹر انجم نواب کا دعوی ہے کہ اُن کے کام کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔