لو بلڈپریشر کو نظرانداز کرنے والے ہو جائیں ہوشیار

خواتین میں اینمیا یعنی خون کی کمی بہت عام ہے۔ اس کے باعث لو بلڈ پریشر اور کئی مسائل بھی جنم لینے لگتے ہیں جیسے کمزوری، سر چکرانا، سر درد، چڑ چڑاپن، تھکن اور کام میں دلچسپی کا فقدان پایا جاتا یے۔
بعض لوگوں میں لو بلڈ پریشر کی علامات ظاہر ہی نہیں ہوتی اور صرف میڈیکل چیک اپ کے وقت ہی اس کا پتہ چلتا ہے۔ لیکن بہت سے مریضوں میں اس کی بہت سی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔ علامت کا مستقل بر قرار رہنا دوسرے فیملی ممبرز کی زندگی پر بھی برا اثر ڈالتا ہے۔ لو بلڈ پریشر کی طرف سے عموماً غفلت برتی جاتی ہے اور عموماً اس کا علاج نہیں کیا جاتا۔ لو بلڈ پریشر کے باعث دماغ میں پہنچنے والے خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور مریض کے بے ہوش ہو جانے کا خطرہ بھی بڑھ جاتاہے۔
بعض افراد میں بلڈ پریشر اچانک گر جاتا ہے اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ہائی بلڈ پریشرکی علامات اور اس سے بچنے کے لیے احتیاط پر تو بہت زیادہ بات کی جاتی ہے لیکن لو بلڈ پریشر کے لیے عموماً ایسا نہیں کیا جاتا۔ بہت سے ڈاکٹر تو اسے مرض ہی تسلیم نہیں کرتے حالانکہ اس کی وجہ سے مریض کے اندر بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو اس کی کار کردگی کو متاثر کرتی ہیں۔
جیسے خون کی شریانوں کا اچانک پھیل جانا یا دستوں، الٹیوں اور خون بہہ جانے کے باعث جسم میں اچانک خون یا سیال مادہ کی کمی کاواقع ہو جانا۔ اکثر لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر کی فکرلاحق ہوتی ہے اور اگر کوئی شخص اس مرض میں مبتلا ہے تو اسے ناصرف فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے بلکہ خاطر خواہ علاج بھی کرنا چاہیے تاکہ اسے کنٹرول میں رکھ کر اس کے برے اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔ 
خوفناک مناظر دیکھنے یا کسی اور وجہ سے جذباتی پریشانیاں بھی خون کے دباؤ میں اچانک کمی پیدا کرنے کا باعث بن جاتی ہیں۔ جس کے باعث مریض کو چکر آنے لگتے ہیں۔ آنکھوں کے گرد اندھیرا چھانے لگتا ہے اور بعض اوقات وہ بے ہوش بھی ہو جاتاہے۔زیادہ دیر تک کھڑے رہنے سے چکر آنا، بصارت کا دھندلا ہو جانا یا بعض صورتوں میں بے ہوش ہو جانا ایک عام بات ہے۔  اس کی وجہ بلڈ پریشر میں اچانک کمی کا واقع ہونا ہو سکتی ہے کیونکہ وزن سہارنے والے اعضاء میں خون کی زیادہ مقدار جمع ہوجاتی ہے۔ اگر لیٹنے اور کھڑے ہونے کی پوزیشن کے درمیان بلڈ پریشر کا فرق زیادہ ہوتو اس بیماری کو”پاچیورل ہائیپر ٹینشن“کہتے ہیں۔
بعض لوگوں میں یہ بیماری اس وقت ہوتی ہے جب وہ دیر تک کھڑے رہیں زیادہ دیر تک بستر پر آرام کریں یا ورزش کے فوراً بعد زیادہ دیر تک کھڑے رہنے سے پیداہونے والا لو بلڈ پریشر عموماً ذیابیطس کے مریض یا ان لوگوں میں پایا جاتا ہے جو ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہوں اور اسے کنٹرول کرنے کے لیے ادویات لیتے ہوں۔ ”پا چیورل ہائیپر ٹینشن“کے مریض عموماً چکر آنے،بصارت کے کم ہوجانے اور بے ہوش ہو جانے کی شکایت کرتے ہیں۔ یہ کیفیت زیادہ دیر کھڑے رہنے یا بستر سے اُٹھنے کے بعد ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ پیشاب کرتے وقت زور لگانے،کھانسنے،کسی چیز کو نگلنے یا ورزش اور سخت کام کرنے سے بھی یہ کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی ایسی کیفیت محسوس کرے تو دونوں حالتوں میں بلڈ پریشر چیک کرنا چاہیے یعنی لیٹے ہوئے بھی اور کھڑے ہوئے بھی، ایسے مریضوں کو سر اونچا رکھ کر سونا چاہیے اس کے لیے وہ اونچا تکیہ استعمال کر سکتے ہیں۔
ماہرین صحت کہتے ہیں کہ لو بلڈ پریشر میں لیٹے ہوں تو اُٹھتے وقت آہستہ آہستہ حرکت کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ کھانے میں نمک کا استعمال بڑھا دینا چاہیے، پانی زیادہ مقدار میں پئیں۔ بہت سے لوگ چاہے وہ جوان ہوں یا عمر رسیدہ، موٹے ہوں یا دُبلے مستقل لو بلڈ پریشر میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ لو بلڈ پریشر عموماً ان لوگوں کو ہوتا ہے جو ناقص غذا کھاتے ہیں یا جوموشن کے مریض ہوں، یہ ان خواتین کو بھی ہوتاہے جو بہت زیادہ ڈائٹنگ کرتی ہیں، متوازن خوراک استعمال نہیں کرتیں، یا ورزش نہیں کرتیں۔
لوبلڈ پریشر اصل معنوں میں شاید مرض نہ ہو لیکن ہر عمر کے لوگ اور عموماً خواتین اس میں مبتلا ہوتی ہیں اور انہیں اس کی وجہ سے دیگر کئی امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔ لو بلڈ پریشر کی علامات کو کم کرنے کے لیے متوازن غذا کھائیں جو وٹامنز اور معدنیات سے بھر پور ہو،سبزپتوں والی تر کار یاں اور پھل کثرت سے لیں،نمک کھانے کی مقدار بھی بڑھا دیں لو بلڈ پریشر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے باقاعدگی سے تھوڑی بہت ورزش ضرور کریں۔