بے گناہ کشمیری 33ویں روز بھی گھروں میں قید، ہزاروں کشمیری نجوانوں کو گرفتار

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اوربھارتی پابندیوں کا دوسرا ماہ جاری ہے،کشمیریوں کوتنتیسویں روز سے گھروں میں قید رہنے پرمجبورکیا جارہا ہے، بھارتی افواج اب تک گیارہ ہزار کشمیری نوجوانوں کوگرفتار کرچکی ہے۔
مقبوضہ وادی میں بھارتی پابندیوں کا دوسرا ماہ جاری ہے۔ 33 ویں روز سے لوگ اپنے گھروں میں قید ہیں، مقبوضہ وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے ابھی بھی منقطع ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کشمیروں کی زندگی مفلوج ہے، وادی میں ہر گزرتے دن کےساتھ انسانی المیہ جنم لینے لگا۔ بھارتی فوج نے وادی میں کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کر رکھا ہے۔
ٹرانسپورٹ، کاروبار، دکانیں مکمل بند  کئے گئے ہیں۔ گھروں میں محصور کشمیریوں کے لیے کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی قلت دو چار ہع گئی ہے۔ 
بھارتی فوج اب تک گیارہ ہزار کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر چکی ہے۔ گھروں سے نکلنے والے کشمیریوں کو پیلٹ گن سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وادی میں بھارتی فوج کے خلاف شدید غم اور غصہ ہے۔سیدعلی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق سمیت تقریبا تمام حریت رہنما پانچ اگست سے بدستور گھروں اور جیلوں میں بند ہیں۔