سٹیٹ بینک کی طرف سے 10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ، تفصیلات منظرعام پر

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ، صارفین کی معلومات اور فارن ایکس چینج کے قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے پر 10 بینکوں پر 80 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کر دیے ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگست میں ملک میں کام کرنیوالے مختلف بینکوں پر 80 کروڑ روپے سے ز ائد کے جرمانے عائد کئے ہیں،سٹیٹ بینک نے بینکوں کےخلاف تادیبی کارروائی اور جرمانوں کی تفصیلات مرکزی بینک کی ویب سائٹ پرجاری کردی جس کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ،صارفین کی معلومات اپ ڈیٹ نہ ہونے اور فارن ایکس چینج کے قوانین پرعملدرآمد نہ کرنے پر10 بینکوں پر 80 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائدکئے گئے ہیں۔
فہرست کے مطابق حبیب بینک پر32 کروڑ روپے سے زائد کا سب سے بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے، حبیب بینک پر صارفین سے غلط سروس چارجز کی کٹوتی کا بھی الزام عائد کیا گیا۔
بینک کو جرمانے کیساتھ ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے سسٹم میں بہتری لائیں تاکہ دوبارہ ایسا نہ ہو۔
دبئی اسلامک بینک پر7 کروڑ 79 لاکھ روپے کاجرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ سلک بینک پر پانچ کروڑ اڑتیس لاکھ سے زائد جرمانہ کیا گیا اور ساتھ ہی ہدایت کی گئی ہے کہ بھاری رقوم کی ٹرانزیکشن کی اپنے طورپر انکوائری کریں اور قانون کے مطابق اقدامات کریں۔
اسی فہرست کے مطابق ایم سی بی بینک پر15 کروڑ91 روپے، بینک الفلاح پر پانچ کروڑ ستائیس لاکھ سے زائد، الائیڈ بینک پر تین کروڑ ستائیس لاکھ سے زائد، سندھ بینک پر ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد، سمٹ بینک پر ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد ، جے ایس بینک پر سات کروڑ سے زائد اور حبیب میٹروپولیٹن بینک پر ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس اقدام کا مقصد بینکاری نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔