گنج پن ہونے کے مختلف وجوہات سامنے آگئی

درحقیقت طبی سائنس میں ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ صرف پھلوں یا سبزیوں تک غذا کو محدود کرنا بال گرنے یا گنج پن کے عمل کو تیز تر کرسکتا ہے۔
2006 کی ایک تحقیق میں آئرن کی کمی اور گنج پن کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا۔
اگرچہ اس تحقیق کے نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ آئرن کی کمی یقیناً بالوں کے گرنے کا باعث بنے مگر سبزیاں کھانے کے عادی افراد اور گنج پن کے شکار لوگوں میں ایک تعلق دریافت ہوا ہے اور وہ ہے گوشت کا کم استعمال۔
انٹرنیشنل فوڈ انفارمیشن کونسل کے ڈاکٹر کرس سولائڈ کے مطابق بالوں کی نشوونما میں آئرن کا کیا کردار ہے، وہ تو ابھی نامعلوم ہے، مگر بالوں کا گرن آئرن کی کمی ایک بڑی علامت ضرور ہے۔
بوسٹن میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر کیرولین اپویان کے مطابق طبی سائنس یہ جان چکی ہے کہ اگر آپ ک خون کے سرخ خلیات کو ہیموگلوبن سے مناسب مقدار میں آئرن نہ ملے تو بالوں کی نشوونما اور مرمت کے لیے آکسیجن کی سپلائی محدود ہوجاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سبزیاں کھانے کے عادی افراد میں عام طور پر آئرن کی سطح بہت کم ہوتی ہے۔
آئرن کی 2 اقسام ہوتی ہیں ایک قسم کا آئرن صرف گوشت میں پایا جاتا ہے جبکہ ایک قسم کا آئرن سبزیوں اور گوشت دنوں میں پایا جاتا ہے۔
گوشت میں موجود آئرن جسم میں سبزیوں والے آئرن کے مقابلے میں زیادہ اچھی طرح جذب ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سبزیاں کھانے کے عادی افراد کو آئرن کو روزانہ آئرن کی دوگنی مقدار درکار ہوتی ہے۔
ویسے یہ خیال رہے کہ صرف آئرن ہی گنج پن کی واحد وجہ نہیں بلکہ متعدد عناصر جیسے ذہنی تناﺅ، عمر میں اضافہ، جینز، ہارمون میں تبدیلیاں اور دیگر طبی مسائل بھی اس میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
امریکن اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی کے مطابق بالوں کے اسٹائل کی غلطیاں بھی گنج پن کا شکار بناسکتی ہیں۔
ویسے اگر گنج پن کا شکار ہورہے ہیں اور ایسا غذا کی وجہ سے نہیں، تو بھی صحت بخش غذا کا انتخاب نقصان نہیں پہنچاتا ہے۔
آئرن سے بھرپور غذاﺅں، وٹامن سی، وٹامن بی اور ای والے کھانے سب صحت کے لیے فائدہ مند ہی ثابت ہوتے ہیں۔