ہم چین اور پاکستان کی طرف سے جاری مشترکہ بیان میں جموں و کشمیر کے ذکر کو مسترد کرتے ہیں، کس نے بڑا بیان دے ڈالا؟

بھارت نے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے دورہ پاکستان کے اختتام پر جاری مشترکہ بیان میں جموں و کشمیر کے ذکر کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے سہ ملکی مذاکرات میں شرکت کیلئے اسلام آباد پہنچنے والے چینی وزیر خارجہ کی پاکستانی حکام سے ملاقاتیں اور سہ فریقی مذاکرات کے بعد جاری کئے جانے والےمشترکہ اعلامیہ پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم چینی وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد چین اور پاکستان کی طرف سے جاری مشترکہ بیان میں جموں و کشمیر کے ذکر کو مسترد کرتے ہیں،جموں وکشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے،ہندوستان نام نہاد ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ پر منصوبوں کے بارے میں ان دونوں ممالک کو اپنی تشویش سے مسلسل اظہار کراتا رہا ہے، یہ راہداری ہندوستان کی سرزمین پر تعمیر کی گئی ہے جس پر 1947 سے پاکستان نے غیرقانونی قبضہ کیا ہواہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان پاکستانی کشمیر میں کسی دوسرے ملک کی طرف سے کسی صورت حال کو بدلنے کےکسی بھی کارروائی کے سخت خلاف ہے،ہم تمام متعلقہ فریقوں سے اس طرح کی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ دو روز قبل سہ فریقی مذاکرات میں شرکت کے لئے پاکستان آنے والے چینی وزیرخارجہ کے دورے کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ چین نے پاکستان کی جانب سے علاقائی سالمیت، خود مختاری ، آزادی اور قومی وقار کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اپنے قومی حالات کے مطابق اقدامات، بیرونی سلا متی کے ماحول اور علاقائی و بین الاقوامی ایشوز پر زیادہ تعمیری کردار کے لئے کوششوں میں تعاون کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر تاریخ سے ملا ہوا مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ مناسب انداز میں اقوام متحدہ کے چارٹر ، سلامتی کونسل کے ضمن میں منظور شدہ قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن انداز میں حلہونا چاہیے۔دوسری طرف جبکہ چینی وزیر خارجہ نے ایوان صدر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاتھا کہ چین نے بھارت کے تمام یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کی ہے، جنہوں نے حالات کو مزید پیچیدہ کیا،چین، پاکستان کی خود مختاری، سالمیت اور آزادی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔