امریکی سفارت خانے پر راکٹ سے حملہ

افغانستان میں موجود امریکی سفارت خانے پر راکٹ سے حملہ کردیا گیا۔ حملے میں کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا جبکہ حکام نے امریکی سفارت خانے کے احاطے کو بھی کلیئر قرار دے دیا۔
تاہم راکٹ داغنے کے ایک گھنٹے بعد حکام نے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا جبکہ حکام نے امریکی سفارت خانے کے احاطے کو بھی کلیئر قرار دے دیا۔
امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق رات گئے افغان دارالحکومت کابل کے وسط میں واقع سفارت خانے سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جس کے بعد سائرن بجنا شروع ہوگئے اور ملازمین نے لاؤڈ اسپیکر پر یہ اعلان سنا کہ ’ایک راکٹ کے باعث کمپاؤنڈ میں دھماکا ہوا ہے‘۔
دوسری جانب امریکی سفارت خانے کے نزدیک موجود نیٹو مشن نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ حملے میں کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ افغانستان میں 18 برس سے جاری امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان اور ٹرمپ حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کو ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ کر ختم کردینے کے بعد کابل میں یہ اب تک کا پہلا بڑا حملہ تھا۔
اس سے قبل گزشتہ ہفتے طالبان نے کابل میں 2 کار بم دھماکے کیے تھے جس کے نتیجے میں نیٹو کے 2 اہلکاروں سمیت متعدد شہری ہلاک ہوگئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کو امریکا طالبان مذاکرات ’مردہ‘ ہونے کی وجہ قرار دیا تھا، جس کے بعد افغانستان میں حساس دن سمجھے جانے والے 11 ستمبر کے روز ہی کابل میں یہ حملہ ہوگیا۔
یاد رہے کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکا کے شہر نیویارک میں واقع ٹوئن ٹاورز پر ہونے والے حملے کے بعد امریکا کی سربراہی میں افغانستان میں جنگ کا آغاز ہوا تھا، جس کے نتیجے میں حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیے جانے والے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو پناہ دینے والے طالبان کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تھا۔
18 برسوں سے جاری اس طویل جنگ کے دوران افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ تک جاپہنچی تھی، تاہم 2011 میں پاکستان میں روپوش اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس تعداد میں ڈرامائی طور پر کمی واقع ہوئی تھی۔
چنانچہ اب افغانستان میں 14 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ان کی افغانستان میں موجودگی کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔