سانحہ 11۔9 کو 18سال بیت گئے لیکن دہشت گردی کے حلاف جنگ آج بھی جاری

سانحہ 9/11 کو اٹھارہ سال ہو گئے ہیں۔ امریکا ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں 2001ء کو پیش آنے والا واقعہ آج بھی تاریح میں زندہ ہے۔
ستمبر 2001ء کا سورج امریکا کے لیے قیامت بن کر طلوع ہوا۔ دہشت گردوں نے امریکا کے چار مسافر طیارے ہائی جیک کر لیے۔ ان میں سے دوطیارے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا دیے۔ جس سے دنیا کی بلند ترین عمارت منٹوں میں زمین بوس ہو گئی، باقی کے دو طیارے یکے بعد دیگرے مختلف مقامات پر تباہ کیے۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹرمیں ہونے والے حملے میں تقریبا 3ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 6ہزار سے زائد زحمی ہوئے تھے۔ امریکا میں دہشت گردی کے اس حملے کو اٹھارہ سال بیت گئے ہیں۔
امریکا کی جانب سے ان حملوں کا ذمہ دار القاعدہ کو ٹھہرایا گیا جس کے سربراہ اسامہ بن لادن تھے۔ اس حملے کے بعد امریکا نے عراق اور افغانستان میں دہشت گردوں کے حلاف نا حتم ہونے والی جنگ کا اعلان کیا۔
امریکا نے افغانستان میں اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ جس کے بعد دہشت گردی نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا القاعدہ کے اس حملے کا خمیازہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو بھگتنا پڑا ۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 3ہزار امریکیوں کے بدلے امریکا نے لاکھوں مسلمانوں سے جینے کا حق چھین لیا۔