عدالت نے برطانوی پارلیمنٹ معطل کرنے کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا

اسکاٹ لینڈ کی سپریم سول کورٹ نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے پارلیمنٹ معطل کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا جو برطانوی حکومت کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے 78 قانون سازوں نے بورس جانسن کی جانب سے ملکہ الزبتھ دوم کو بریگزٹ پر غور کرنے کے لیے پارلیمنٹ معطل کرنے کی درخواسے دینے کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق عدالت میں اپیل کی تھی۔
تاہم 4 ستمبر کو سیشن کورٹ کے جج لارڈ ڈوہرتی نے بورس جانسن کے فیصلے کو غیرقانونی قرار دینے کی اپیل مسترد کردی تھی اور کہا تھا کہ یہ فیصلہ سیاست دان کرتے ہیں عدالتیں نہیں کرتیں۔
2 روز قبل اسکاٹ لینڈ میں واقع سول سپریم کورٹ کے انر ہاؤس کے 3 ججز نے لارڈ ڈوہرتی کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔
دوران سماعت جج لارڈ کارلوے نے بتایا کہ ’ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے ملکہ الزبتھ دوم کو پارلیمنٹ معطلی کی درخواست کرنا غیر قانونی ہے اور پارلیمنٹ معطل کرنا بھی غیر قانونی ہے‘۔
اس حوالے سے بورس جانسن کی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے سے مایوس ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ میں اس کے خلاف اپیل دائر کریں گے ۔
انہوں نے کہا کہ’ برطانوی حکومت کو مضبوط قانونی لائحہ عمل پیش کرنے کی ضرورت ہے، ایسا کرنے کے لیے پارلیمنٹ معطل کرنا قانونی اور ضروری راستہ ہے‘۔
گزشتہ ہفتے لندن کی ہائی کورٹ میں پارلیمنٹ معطل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔
برطانوی حکومت نے عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی جو 17 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔
تاہم اس دوران عدالت کی جانب سے معطلی کو غیرقانونی قرار دینے کے باوجود برطانوی پارلیمنٹ معطل رہے گی۔
بورس جانسن کا کہنا ہے کہ 14 اکتوبر تک پارلیمنٹ معطل کرنے کا فیصلہ حکومت کو آئندہ کا نیا لائحہ عمل تیار کرنے کے تناظر میں معمول کا اقدام ہے۔
دوسری جانب ناقدین بورس جانسن کے اس اقدام کو 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے منصوبے پر اپوزیشن کو خاموش کروانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں کیونکہ برطانوی وزیراعظم برسلز کی جانب سے بریگزٹ کی شرائط پر متفق نہیں ہیں۔
بورس جانسن کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کی کوشش کررہے لیکن برطانیہ کو کسی معاہدے کے بغیر یورپی یونین سے الگ ہوجانا چاہیے تاہم ارکان پارلیمنٹ کو خدشہ ہے کہ بے قاعدہ علیحدگی سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوگی۔
6 ستمبر کو برطانیہ کے ایوانِ بالا نے وزیراعظم بورس جانسن کو بریگزٹ میں تاخیر کرنے پر مجبور کرنے کے لیے قانون کو حتمی منظوری تھی۔
اس قانون کے مطابق اگر برطانوی وزیر اعظم یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدہ کرنے میں ناکام ہوگئے تو یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کی حالیہ حتمی مدت 31 اکتوبر سے آگے بڑھا دی جائے گی۔
تاہم باقاعدہ حکم جاری ہونے کے بعد اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی نے وزیراعظم سے ارکان اسمبلی کو واپس آنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
بریگزٹ ترجمان کائر اسٹارمر نے کہا تھا کہ ’ میں وزیراعظم پر زور دیتا ہے کہ فوری طور پر پارلیمںٹ دوبارہ طلب کی جائے تاکہ اس فیصلے پر بحث کی جائے اور آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے‘۔
تاہم حکومتی ذرائع نے بتایا کہ کیس کا فیصلہ ہونے تک کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔
مختلف جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے آج دارالعوام کے باہر احتجاج کیا اور کہا کہ وہ اپنی نشستیں واپس لینے کے لیے تیار ہیں۔
خیال رہے کہ اگست کے اواخر میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم نے یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے معاملے پر وزیراعظم بورس جونسن کی درخواست پر پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دی تھی۔
بورس جونسن بطور وزیراعظم
واضح رہے کہ بورس جونسن نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ ’ ہم ملک کو متحرک کرنے جارہے ہیں، ہم 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائیں گے اور اس سلسلے میں ہم ایک تمام مواقع سے فائدہ اٹھائیں گے‘۔
بورس جانسن نے کہا تھا کہ ہم بہتر تعلیم، بہتر انفراسٹرکچر، مزید پولیس کے ذریعے خود اعتمادی کے فقدان اور منفی تاثر کا خاتمہ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس حیرت انگیز ملک کو متحد کرنے جارہے ہیں اور ہم اسے مزید آگے لے کر جائیں گے۔
یاد رہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے 24 مئی کو انتہائی جذباتی انداز میں اعلان کیا تھا کہ وہ 7 جون کو وزیراعظم اور حکمراں جماعت کنزرویٹو اور یونینسٹ پارٹی کی رہنما کے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی اور 7 جون کو انہوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔