محکمہ پولیس میں اصلاحات، ایس ایچ اوز کے عہدے پر اے ایس پیز تعینات

وزیراعظم سیکریٹریٹ نے محکمہ پولیس میں اصلاحات متعارف کرنے کی منظوری دے دی جس کے تحت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) موثر انتظامی امور کے لیے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کےعہدے پر کام کرے گا۔
ایک سینئر عہدیدار نے اس اقدام کو غیر معمولی کہتے ہوئے پولیس حراست میں تشدد اور ہلاکت کے واقعات سامنے آنے کی وجہ سے تحریک انصاف حکومت پر ہونے والی تنقید کا نتیجہ قرار دیا۔
متعلقہ عہدیدار کا کہنا تھا کہ پائلٹ پروجیکٹ کے تحت ابتدائی مرحلے میں اے ایس پیز (گریڈ 17 افسران) کو اسلام آباد کے کچھ تھانوں میں تعینات کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کامیاب آغاز ہونے کے بعد دیگر صوبوں بالخصوص سب سے زیادہ پولیس اسٹیشن رکھنے والے صوبے پنجاب میں بھی یہ طریقہ کار متعارف کروادیا جائے گاْ۔
خیال رہے کہ دہائیوں پرانے نظام کے تحت ملک بھر میں انسپکٹر اور سب انسپکٹر کو ایس ایچ او کے عہدے پر تعینات کیا جاتا ہے جبکہ پنجاب میں زیادہ تر یہ عہدہ گریڈ 14 کے حامل سب انسپکٹروں کے پاس ہے۔
اس ضمن میں عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت چاہتی ہے کہ پولیس اسٹیشنز میں موثر انتظامیہ بدعنوانی، ہراسانی، طاقت کے غلط استعمال، ناقص تفتیش، قانون کے غلط اطلاق جیسے مسائل کو دور کرے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم سیکریٹریٹ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ عامر ذوالفقار کو پولیس اسٹیشنز میں بہتر انتظامیہ مقرر کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
عہدیدار کے مطابق متعلقہ حکام نے اس سلسلے میں ایک اجلاس بھی کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ اسلام آباد پولیس کو اے ایس پیز کی کمی کا سامنا ہے۔
چنانچہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے صوبوں سے مطالبہ کیا ہے کہ کچھ اے ایس پیز اسلام آباد کے حوالے کردیے جائیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا تو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس پولیس (ڈی ایس پیز) کو ایس ایچ او تعینات کرنے کی سفارش کی جائے گی۔
ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ یہ منصوبہ نیا نہیں بلکہ مشرف دور میں متعارف کروایا گیا تھا جس کے تحت کراچی اور لاہور میں کچھ پولیس اسٹیشنز میں اے ایس پی تعینات بھی کیے گئے تھے البتہ مختلف وجوہات کی بنا پر یہ منصوبہ کچھ ماہ بعد ناکام ہوگیا تھا۔
Source: Dawn news