پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں کے لیے آواز اٹھاتا رہے گا: ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی مظالم سے مقبوضہ کشمیر میں شہدا کی تعداد بڑھ رہی ہے، کشمیر پر عالمی برادری پاکستان کے مؤقف سے متفق نظر آرہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تمام تر مواصلاتی نظام معطل ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا دنیا بھر سے رابطہ منقطع ہونے کا آج 39 واں دن ہے، بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر میں رسائی دی جائے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے 3 کشمیروں کو شہید کیا، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش ہے۔ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کو حل کرے۔ بھارتی مظالم سے مقبوضہ کشمیر میں شہدا کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں عالمی قوانین کا احترام کرے، ترکی نے بھی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمشنر کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے، ملائیشیا نے بھی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش کیا۔ چین کا مؤقف واضح ہے وہ کسی یکطرفہ اقدام کی حمایت نہیں کرے گا۔ پاکستان مسلسل عالمی برادری کو صورتحال سے آگاہ کر رہا ہے۔ ہر فورم کو بھارتی غیر قانونی اقدامات سے آگاہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری پاکستان کے مؤقف سے متفق نظر آرہی ہے، کشمیریوں کو ان کے حقوق عالمی قوانین کے تحت ملنے چاہئیں، پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں کے لیے آواز اٹھاتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ 7 ستمبر کو بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا گیا، کھوئی رٹہ سیکٹر پر ایل او سی کی خلاف ورزیوں پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔ وزیر خارجہ نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل اجلاس میں شرکت کی۔ انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی پر کوئی اعتراض نہیں، اعتراض بھارت کو ہے وہ راضی ہوگا تو ثالثی شروع ہوگی۔ کل وزیر اعظم عمران خان مظفر آباد جارہے ہیں، کل اہم پالیسی بیان دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور طالبان میں مذاکرات رکنے کا علم ہے۔ فریقین اس معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کریں، فریقین واپس مذاکرات کی میز پر آئیں۔ فوجی طاقت سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ بہتر ہے مذاکرات سے دیرپا امن کے لیے بات چیت کی جائے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ایسے اقدام کو مسترد کرتے ہیں جو فلسطین میں تناؤ کا باعث بنے، ہم فلسطین کی 1969 سے پہلے والی سرحد کو ہی تسلیم کرتے ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں لیا جا رہا۔