رواں مالی سال گاڑیوں کی فروخت میں کمی کیوں؟ بڑی وجہ سامنے آ گئی

رواں مالی سال گاڑیوں کی فروخت سست معیشت کی وجہ سے اگست اور جولائی میں گزشتہ سال کے 34 ہزار 264 یونٹس کے مقابلے میں 20 ہزار 94 یونٹس رہی، جو 41.3 فیصد یونٹس کی کمی ظاہر کرتی ہے۔
اگست میں گاڑیوں کی فروخت کم ہوکر 9 ہزار 126 یونٹس رہی جو گزشتہ سال اس ہی مہینے میں 15 ہزار 389 یونٹس تھی۔
ہنڈا اٹلس کارز لمیٹڈ (ایچ اے سی ایل) نے جولائی کے مہینے میں اپنی پروڈکشن کو 10 روز کے لیے روک دیا تھا، اسی طرح انڈس موٹرز کمپنی (آئی ایم سی) نے اپنے پلانٹ کو 8 روز کے لیے بڑھتی ہوئی قیمتوں، شرح سود میں اضافے، فروخت نہ ہونے والی گاڑیوں، نئی بکنگ میں کمی اور 2.5 سے 7.5 فیصد تک فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کیے جانے کے پیش نظر بند کردیا تھا۔
اس کے علاوہ رواں سال اگست میں گاڑیوں کی فروخت عیدالاضحیٰ کی چھٹیوں کی وجہ سے بھی کم ہوئی جبکہ سوزوکی مہران کے بند ہونے سے بھی گاڑیوں کی فروخت کے اعداد و شمار پر منفی اثرات سامنے آئے۔
پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے اعداد و شمار کے مطابق ہنڈا سوک/سٹی کی فروخت میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی جو گزستہ سال جولائی اور اگست کے درمیان 8 ہزار 78 یونٹس فروخت ہوئی تھیں تاہم رواں سال اس ہی دورانیے میں 2 ہزار 558 یونٹس فروخت ہوئیں۔
سوزوکی سوئفٹ کی فروخت گزشتہ سال کے 839 یونٹس کے مقابلے میں 338 یونٹس رہی جبکہ ٹویوٹا کرولا گزشتہ سال کے 8 ہزار 770 یونٹس کے مقابلے میں 3 ہزار 708 یونٹس فروخت ہوئے۔
سوزوکی کلٹس اور ویگن آر بھی فروخت میں پیچھے رہے جو گزشتہ سال کے بالترتیب 3041 اور 5222 یونٹس کے مقابلے میں 2 ہزار 497 اور ایک ہزار 488 یونٹس فروخت ہوئے۔
نئے آنے والی سوزوکی آلٹو 660 سی سی نے سوزوکی ویگن آر کی مارکیٹ کم کردی جو جولائی اور اگست کے درمیان 8 ہزار 19 یونٹس فروخت ہوئے تاہم جولائی کے مقابلے میں اگست میں آلٹو کی فروخت میں کمی دیکھی گئی جو جولائی میں 4 ہزار 585 یونٹس تھی اور اگست میں 3435 یونٹس ہوگئی۔
ٹرکوں کی فروخت، رواں مالی سال کے آغاز سے ہی سست معاشی سرگرمیوں کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے، دو ماہ میں مزید کم ہوکر 648 یونٹس ہوگئی جو گزشتہ سال ایک ہزار 99 یونٹس فروخٹ ہوئی تھی جبکہ بسیں بھی 217 کے مقابلے میں کم ہوکر 160 فروخت ہوئیں۔