سعودی خواتین نے سیاحت کے میدان میں بھی قدم رکھ دیا

سعودی عرب میں خواتین کے لیے بہت سی آزادیاں اور حقوق دیئے جا رہے ہیں، خواتین کی بہت سے ایسے شعبوں میں بھی شمولیت ہوتی جا رہی ہے، جن میں ان کا داخلہ پہلے ممنوع ہو چکا تھا۔ خصوصاً خواتین پر کئی عشروں سے عائد ڈرائیونگ پر پابندی ہٹا لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی ان پر بہت سی…
اس وقت سینکڑوں خواتین ٹور گائیڈ کے شعبے میں بھی قدم رکھ چکی ہیں۔ مقامی اخبار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت سینکڑوں خواتین بطور گائیڈ اپنی تربیت مکمل کر چکی ہیں اور اب لائسنس حاصل کرنے کی منتظر ہیں۔ جس کے بعد سعودی عرب آنے والے لاکھوں سیاحوں کے لیے گائیڈ کی خدمات فراہم کر کے وہ معقول پیسے بھی کما سکیں گی۔
سیاحتی کمیٹی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت لائسنس یافتہ سیاحتی گائیڈ کی گنتی 668 ہے، جبکہ عنقریب مزید 1400 گائیڈز بھی اس شعبے میں قدم رکھ دیں گے۔
اس وقت سب سے زیادہ سیاحتی گائیڈز مدینہ میں موجود ہیں، جس کی ایک وجہ یہاں پر تاریخی اور مذہبی مقامات کا کثرت سے ہونا ہے۔ یہ گائیڈز سیاحتی مقامات کے محل وقوع کے علاوہ ان کی تاریخ اور پس منظر سے بھی بخوبی واقف ہوتے ہیں۔
نئے گائیڈ کو مفت ریفرشل کورسز بھی کروائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ برس کے اختتام تک 3150 گائیڈز جن میں خواتین بھی شامل تھیں،کو مذکورہ کورسز کروائے گئے۔ان گائیڈز کو عالمی سیاحتی کمیٹی کے تعاون سے بین الاقوامی معیارات کے مطابق گائیڈ کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔