چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان بھی اب عدالتی شکنجے میں، وفاقی حکومت کا ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ سامنے آگیا

ایک ایسے وقت جب الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری کے معاملے پر ڈیڈلاک جاری ہے وفاقی حکومت اور اعلیٰ الیکشن ادارے کے چیئرمین آمنے سامنے آگئے ہیں۔
ڈیڈ لاک میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب گزشتہ روز وفاقی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کے خلاف صدر عارف علوی کی ایڈاوئس پر ان کی طرف سے چنے گئے دو نئے ارکان سے حلف نہ لینے پر ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان ارکان کا تعلق سندھ اور بلوچستان سے ہے۔
ایک سینئر حکومتی وزیر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے نمائندے کو بتایا کہ ہم نے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کے خلاف اصولی طور پر ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اس کی وجوہات بڑی احتیاط سے تیار کی گئی ہیں۔ اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان اور وزارت قانون اور انصاف کو پہلے ہی اعتماد میں لے لیا گیا ہے، اس ساری پیش رفت سے آگاہ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے ارکان سے حلف نہ لے کر نہ صرف حلف کی خلاف ورزی کی بلکہ آئین کو بھی توڑا۔ انہوں نے صدر کے احکامات کو بھی ماننے سے انکارکر دیا، یہ بنیادی وجہ ہے جو ریفرنس میں تحریر کی جائے گی، یہ ریفرنس اگلے 48گھنٹے میں دائرکر دیا جائے گا۔
اگر وفاقی حکومت چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کے خلاف ریفرنس دائر کرتی ہے تو یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہوگی، جسٹس( ر) سردار رضا خان چیف الیکشن کمشنر کے طور اپنی پانچ سالہ مدت 5 دسمبر 2019 کو پوری کریں گے۔ وفاقی وزیر جنہوں نے بدھ کو وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی، انہوں نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے اختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئے چند ماہ قبل پارلیمانی امور کی وزارت کو 40کروڑ روپے کی سمری منظوری کیلئے بجھوائی، ہم نے اس کو بھی ریفرنس میں شامل کیا ہے، مجاز اتھارٹی نے اس سمری کو مسترد کردیا تھا، اس لیے کہ چیف الیکشن کمشنر اپنے افسران کی مراعات اور سہولیات کیلئے اتنی بڑی رقم کی سفارش نہیں کر سکتا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر علوی کی طرف سے ارکان کی تقرری غیر آئینی ہے، انہوں نے دونوں ارکان کی تقرری میں آئین کے آرٹیکل213 اے اور بی کی خلاف ورزی کی ہے۔
صدر مملکت نے گزشتہ ماہ منیر احمد کاکڑ کو بلوچستان اور خالد محمود صدیقی کو سندھ سے الیکشن کمیشن کا رکن مقرر کیا تھا۔ تاہم ایک اور وزیر کا اس حوالے سے نکتہ نظر مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مؤقف کمزور ہے، وہ ا س خدشے کے پیش نظر ریفرنس دائر نہیں کرے گی کہ کہیں یہ اس کے خلاف نہ چلا جائے، ریفرنس دائر نہ کرنے کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جسٹس( ر) سردار رضا خان کے اب صرف چند ماہ ہی رہ گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کا کہنا کہ چیف الیکشن کمشنر کا حلف نہ لینے کا فیصلہ درست ہے، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 2013 میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ صدر مملکت کے پاس چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری کے کلی صوابدیدی اختیارات نہیں ہوں گے، تاہم وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ حلف لینے سے انکار غیر آئینی ہے۔ 9 ماہ گزر گئے جب الیکشن کمیشن کے سندھ سے رکن عبد الغفار سومرو اور بلوچستان سے جسٹس (ر ) شکیل بلوچ ریٹائر ہوئے تاہم اب تک وفاقی حکومت دونوں صوبوں سے نئےارکان کی تقرری کیلئے اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکی۔ قانون کے تحت یہ تقرری 45دن میں ہونی چاہئے ، اس کیلئے وزیراعظم، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پارلیمانی کمیٹی بھی اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔