سری لنکا کے اسپنر پر ایک سال کی پابندی، لیکن کیوں؟ بڑی وجہ سامنے آ گئی

سری لنکن اسپنر باؤلر اکیلا دھننجیا پر غیرقانونی باؤلنگ ایکشن کے باعث انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) ایک سال کی پابندی عائد کردی ہے۔

دھننجیا کا باؤلنگ ایکشن نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے درمیان گزشتہ ماہ گال میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں رپورٹ ہوا تھا اور یہ گزشتہ 10ماہ کے دوران ان کا ایکشن دوسری بار رپورٹ ہوا تھا۔

مذکورہ ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کا بھی باؤلنگ ایکشن رپورٹ پوا تھا۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارت کے شہر چنائی میں قائم لیبارٹری میں دھننجیا کے باؤلنگ ایکشن کا ٹیسٹ کیا گیا اور ان کا ایکشن غیرقانونی قرار پایا۔

دھننجیا کا باؤلنگ ایکشن گزشتہ سال دسمبر میں بھی رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد انہیں معطل کردیا گیا تھا تاہم انہوں نے ایکشن کی بہتری پر کام کیا اور رواں سال کے آغاز میں اپنا ایکشن کلیئر کروا لیا تھا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے قوانین کے تحت اگر ایک باؤلر کا دو سال کے عرصے میں دوسری بار ایکشن رپورٹ ہو تو اس پر ایک سال کی پابندی عائد کردی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ گال ٹیسٹ سابقہ پابندی کے خاتمے کے بعد دھننجیا کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا اور اسی میچ میں ان کا ایکشن ایک مرتبہ پھر رپورٹ ہو گیا تھا۔

ایک سال کی پابندی کے خاتمے کے بعد دھننجیا کو انٹرنیشنل کرکٹ میں باؤلنگ کرنے سے قبل اپنے باؤلنگ ایکشن کا ایک مرتبہ پھر ٹیسٹ کرانا ہو گا اور ایکشن کلیئر ہونے کی صورت میں ہی وہ دوبارہ باؤلنگ کے لیے اہل قرار دیے جائیں گے۔

دھننجیا نے گزشتہ سال بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا اور اب تک 6 ٹیسٹ میچوں میں 33 وکٹیں لے چکے ہیں جبکہ انہیں ون ڈے کرکٹ میں 51 اور ٹی20 میں 22 وکٹیں لینے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ مشکوک باؤلنگ ایکشن کے سبب کسی باؤلر پر ایک سال کی پابندی عائد کی گئی ہو بلکہ اس سے قبل پاکستان کے سابق مایہ ناز اسپنر سعید اجمل، محمد حفیظ اور سنیل نارائن کے ساتھ ساتھ متعدد کھلاڑیوں کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔