اب ہو گا تاجروں کا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ، ہوگا تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع، لیکن کب؟ جان سکیں گے اس خبر میں

فکسڈ ٹیکس اسکیم پر ایف بی آر اور تاجروں کے مذاکرات ناکام ہونے پر آل پاکستان انجمن تاجران نے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کردیا۔
صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ کے مطابق تاجروں کا ایف بی آر کے ساتھ مذاکراتی عمل ناکام ہوگیا ہے، ایف بی آر کے ساتھ شناختی کارڈ کی شرط کے خاتمے، سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور فکسڈ ٹیکس اسکیم کے خدوخال پر اتفاق نہیں ہوسکا، مذاکرات کی ناکامی کے بعد 9 اکتوبر کو ملک بھر کے تاجر نمائندے اسلام آباد میں صبح 11 بجے اکٹھے ہوں گے، یہ تاجروں کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔
اجمل بلوچ کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے تمام اضلاع اور تحصیلوں کے تاجر نمائندے اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، کراچی کے تاجر نمائندے، جمیل پراچہ، عبدالرحمان، اسماعیل لال پوریہ، سلیم میمن، محمد ارشد کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گےجب کہ صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع اور تحصیلوں کے تاجر نمائندے ملک شاہد غفور پراچہ، روف مغل، اسلم بھلی، جاوید بٹ اور ممتاز بابر کی قیادت میں اسلام آباد پہنچیں گے۔
اسی طرح صوبہ سندھ کی تمام گوٹھوں اور اضلاع سے تاجروں کے قافلے، قیوم قریشی، امین میمن ، ہارون میمن، رحمت اللہ ساند، حاجی مجید میمن اور جاوید قریشی کی قیادت میں اسلام آباد کا رخ کریں گے، صوبہ خیبر پختونخواہ کے تاجر نمائندے ، ملک مہر الہی، احسان باچہ احتشام حلیم، شکیل صراف ، منصور بنگش کی قیادت میں اسلام آباد میں جلوہ افروز ہوں گے، صوبہ بلوچستان کے تاجر نمائندے، عبدالرحیم کاکڑ، اللہ داد ترین ، یسین مینگل، حضرت علی اور تاج آغا کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کریں گے جب کہ گلگت بلتستان کے تاجروں کا وفد مسعود الرحمن کی قیادت میں اور آزاد کشمیر کے تاجر نمائندے شوکت میر کی قیادت میں اسلام آباد پہنچیں گے۔