ایران کا واضح بیان سامنے آگیا ، خطے میں ٹینشن کی صورتحال

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے ہم پر اعتماد ہیں کہ جو جنگ کی شروعات کرے گا وہ جنگ کا اختتام نہیں کرے گا اور جنگ کا آغاز ہم نہیں کریں گے، جنگ ہوئی تو یہ محدود نہیں بلکہ پورا خطہ لپیٹ میں آئے گا۔
جواد ظریف کا کہنا تھا کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے کا معاملہ غلط سمت کی طرف لے جایا جارہا ہے، ممکن ہے کہ ہم سعودی تیل تنصیبات پر حملے سے متعلق اقوام متحدہ کی تحقیقات کو قبول نہ کریں کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ کس بنیاد پراقوام متحدہ کے ماہرین کو بھیجا گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے تحقیقات کے لیے ماہرین بھیجنے پر ہم سے مشاورت نہیں کی، اقوام متحدہ نے غیرجانبدار تحقیقات کیں تو ثابت ہوجائے گا کہ حملہ ایران نے نہیں کیا۔
جواد ظریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو ویزے جاری کرنا امریکا کی ذمہ داری ہے، امریکا نے مجھے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت سے روکنے کی پوری کوشش کی، ویزے کے ساتھ منسلک خط میں مجھے ویزے کے لیے نااہل قرار دیا گیا، مجھے ویزے کا اجرا استثنیٰ کی بنیاد پر ہوا۔