برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا کو کیسے اور کس نے قتل کیا؟ شہزادی کی موت کے بارے میں پہلی بار تہلکہ خیز انکشاف

برطانوی شہزادی ڈیانا کی کار حادثے میں ہلاکت کے بعد سے اب تک ان کی موت کی کئی وجوہات کا تذکرہ کیا جاچکا ہے لیکن اب ایک نئے دعویٰ میں یہ کہا گیا ہے کہ شہزادی ڈیانا ممکنہ طور پر عالمی اسلحہ ڈیلرز کی سازش کا شکار بن کر موت کے منہ میں گئیں۔
مائنز ایڈوائزری گروپ کے تحت بارودی سرنگوں کے خلاف کام کرنے والے لو و میگراتھ کا کہنا ہے کہ لیڈی ڈیانا کی اس گروپ میں شمولیت ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی اور جان لیوا قسم کے ہتھیاروں پر پابندی لگنا شروع ہوئی۔
جنگ زدہ علاقوں سے بارودی مواد ہٹانے والی تنظیم ہالو ٹرسٹ کی جانب سے 1997 میں لیڈی ڈیانا کو انگولا کا دورہ کرایا گیا تھا، اس دورے میں پال ہیسلوپ بھی شامل تھے۔ پال کا کہنا ہے ’ میں یہ نہیں کہتا کہ ڈیانا کی وجہ سے یہ سب ممکن ہوا لیکن میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ڈیانا کی شمولیت نے ایسا ہونے کو اور زیادہ مشکل بنادیا، ڈیانا کی مائن ٹریٹی میں شمولیت اور پھر ان کی نا گہانی موت، اور ان کی موت اس معاہدے پر دستخط کی تاریخوں کے قریب ہونا، میرا خیال ہے کہ اس سے بہت کچھ واضح ہوجاتا ہے۔‘
لیڈی ڈیانا نے جنوری 1997 میں مائنز ایڈوائزری گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی جس کا مقصد بارودی سرنگوں پر پابندی عائد کروانا تھا۔ لیڈی ڈیانا کی موت کے 4 مہینے بعد دنیا کے 122 ممالک نے اوٹاوا ٹریٹی پر دستخط کیے ، جس کے تحت عالمی طور پر بارودی سرنگوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔
اسلحے کی فروخت کی طرح بارودی سرنگوں کا کاروبار بھی بہت وسیع ہے ، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈیانا کی مائنز ایڈوائزری گروپ میں شمولیت نے آرمز ڈیلرز کو ان کے قتل کی منصوبہ بندی پر مجبور کیا ؟
بی بی سی کے برطانوی شاہی خاندان کیلئے سابق نمائندہ خصوصی مائیکل کول کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگوں پر پابندی عائد کروانا لیڈی ڈیانا کا بہت بڑا جرم تھا کیونکہ اس شعبے میں بہت بڑی رقم کا کاروبار تھا، ڈیانا نے اس پراجیکٹ میں اپنا لوہا منوایا جس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا وہ مزید ہتھیاروں پر بھی پابندی عائد کراسکتی ہیں، ان کا اگلا پراجیکٹ کیا ہوگا؟وہ کوئی بھی ہتھیار ہوسکتا تھا اور کوئی بھی اس تحریک کو اور ڈیانا کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو پارہا تھا۔
ڈیانا کے بٹلر پال برل نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ شہزادی ڈیانا نے بارودی سرنگوں پر پابندی لگوانے کے بعد اسلحہ سازوں میں بہت سے دشمن پیدا کرلیے تھے۔
شہزادی کے قریبی ساتھی سمون سائمنز کا کہنا ہے کہ جب ڈیانا نے بارودی سرنگوں پر پابندی کی مہم میں شمولیت اختیار کی تو انہیں بہت بار دھمکیاں دی گئیں اور اپنی کیمپین سے باز رہنے کو کہا گیا۔بعض لوگوں نے ڈیانا سے یہ بھی کہا کہ انہیں پتا کہ ان کا پالا کن لوگوں سے پڑ چکا ہے اس لیے ان کاموں میں اپنی ٹانگ نہ اڑاﺅ جہاں تمہاری ضرورت نہیں ہے۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لیڈی ڈیانا کی موت کی تحقیقات میں کیا بات سامنے آئی، پیرس میں ہونے والے کار حادثے کی تحقیقات کیلئے مزید کتنے پیسے برباد کیے جائیں گے لیکن بہت سے لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ شہزادی ڈیانا کی موت کے پیچھے ڈارک فورسز کا ہاتھ ہے۔