اپوزیشن نے کمر کسَ لی، حکومتِ پاکستان میں کیا تبدیلیاں آنے والی ہیں؟۔۔۔ اندر کی کہانی سامنے آگئی

اپوزیشن جماعتوں کے درمیان چارٹر آف ڈیمانڈ پر مکمل اتفاق رائے ہوگیا ہے، احتجاجی تحریک کے بعض نکات طے کیے جانے باقی ہیں، اپوزیشن جماعتوں نے یہ بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ چارٹر آف ڈیمانڈ سے ہٹ کر حکومت سے ممکنہ مذاکرات میں کوئی بات نہیں کی جائے گی، چارٹر آف ڈیمانڈ کے تین کلیدی نکات ہیں، تمام متعلقہ جماعتوں…
چارٹر آف ڈیمانڈ کے تین اہم نکات حکومت کے استعفے، صاف شفاف منصفانہ عبوری انتخابات کے انعقاد اور الیکشن کمیشن کے علاوہ کسی اور ادارے کی انتخابی عمل میں مداخلت نہ ہونے، اسلامی آئینی ترامیم و قوانین کا تحفظ شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی نے تمام جماعتوں کی متفقہ چارٹر آف ڈیمانڈ کیلئے تجاویز تحریری طورپر متحدہ حزب اختلاف کے قائدین محمد شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمن، اسفندیارولی خان، محمود خان اچکزئی، آفتاب احمد شیرپاؤ، علامہ اویس نورانی، سینیٹر پروفیسر ساجد میر کو آگاہ کردیا تھا۔ متحدہ حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کے درمیان متفقہ چارٹر آف ڈیمانڈ کیلئے رابطے بھی ہوئے اور بعض رہنما ان جماعتوں کے درمیان رابطوں کیلئے کردارادا کررہے ہیں۔ ان رہنماؤں نے چارٹر آف ڈیمانڈ کا مسودہ تیار کیا، متذکرہ تین کلیدی نکات ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی مذاکراتی ٹیم سے چارٹرآف ڈیمانڈ سے ہٹ کر بات نہیں کی جائے گی، حکومت کو آزادی مارچ شروع ہونے سے پہلے باضابطہ طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ سے آگاہ کردیا جائے گا اور اپوزیشن کے اہم قائدین کی طرف سے اعلان کردیا جائےگا کہ چارٹرآف ڈیمانڈ سے ہٹ کرحکومت سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، حکومت نے مذاکراتی ٹیم بجھوانی ہے تو پہلے چارٹر آف ڈیمانڈ پر اپنے موقف سے آگاہ کرے۔
متحدہ حزب اختلاف کے ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کوشش کی جائے گی کہ کوئی تعطل پیدا نہ ہو اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر مذاکرات کیلئے اپوزیشن جماعتیں تیار نظر آئیں۔ اپوزیشن نے حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک کی کامیابی کیلئے تمام ممکنہ جمہوری آپشنز پر بھی مشاورت مکمل کرلی ہے۔ اس میں حتمی طور پر انتہائی اہم جمہوری اقدام بھی شامل ہیں۔