امریکہ چین تجارتی جنگ شدت اختیار کر گئی، چینی کمپنیوں پر پابندی عائد

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت آگئی، امریکا نے 28 چینی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکا نے جن چینی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا ہے ان میں ویڈیونگرانی مصنوعات بنانے والی معروف کمپنی ہک وژن بھی شامل ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر پابندی عائد کی گئی۔ ان پابندیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
چینی کمپنیوں پر امریکی مصنوعات کی خریداری پر بھی پابندی عائد کردی گئی، چینی کمپنیوں کو مصنوعات کی خریداری کے لیے واشنگٹن کی اجازت درکار ہوگی۔
رواں سال اگست میں امریکی اقدامات کے جواب میں چین نے بھی بھاری ڈیوٹیز عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹریف میں اضافے کا اطلاق یکم ستمبر سے ہوا، امریکا اب تک 250 ارب ڈالر کی ڈیوٹیز عائد کرچکا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے 3 اگست کو چینی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ تجارتی جنگ میں چین کی مزید 300 ارب ڈالر کی مصنوعات پر 10 فیصد نیا ٹیرف نافذ ہوگا ، اب تک امریکہ نےاب تک ڈھائی سوارب ڈالرکی ڈیوٹیزعائدکی ہیں۔
تجارتی جنگ، امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
خیال رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان وفود کی سطح پر متعدد بار مذاکراتی دور ہوچکے ہیں لیکن تمام بے نتیجہ رہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امید ظاہر کی تھی کہ معاملات حل ہوجائیں گے۔