امریکی صدر پر الزامات کی بوچھاڑ، نیویارک سٹی کے وفاقی ڈسٹرکٹ جج نے ایسا حکم دیا کہ ٹرمپ کی نیندیں حرام

نیویارک سٹی کے وفاقی ڈسٹرکٹ جج وکٹر ماریرو نے صدر ٹرمپ کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر گزشتہ 8سال کے ٹیکس گو شوارے پراسیکیوٹرز کے حوالے کریں۔
صدر نے اپنے وکیل کے ذریعے اپیل کی تھی کہ انہیں کریمینل تحقیقات کیخلاف استثنیٰ حاصل ہے جسے عدالت نے سختی سے مسترد کر دیا۔ نیویارک ریاست نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ سے گزشتہ برسوں میں خفیہ ادائیگیو ں کی تحقیقات کیلئے نیویارک سٹی کے پراسیکیوٹرز کے ذریعے ان کے گزشتہ آٹھ سال کے ذاتی اور کاروباری ٹیکس گوشوارے طلب کئے تھے اور صدر ٹرمپ ان کو مسلسل چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی ٹیلی ویڑن رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹک صدر بل کلنٹن کی طرف سے مقرر کردہ وفاقی جج ماریرو نے اپنے 75 صفحات کے فیصلے میں صدر ٹرمپ کے استثنیٰ کی دلیل کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے لکھا کہ صدارتی استثنیٰ کا ایسا وسیع تر تصور جو جوڈیشل عمل کو نظر انداز کرنے کیلئے استعمال کیا جائے درست نہیں۔ اس کی بجائے ضرورت امر کی ہے کہ صدر کے آئینی فرائض ادا کرنے اور عدالتوں کے انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے جائز مقاصد کے درمیان توازن قائم کیا جا ئے۔
وفاقی جج نے لکھا ہے کہ سابق صدر نکسن نے بھی واٹر گیٹ سکینڈل کے دوران عدالتی طلبی پر ضروری دستاویزات فراہم کرنے سے انکار نہیں کیا تھا۔ یاد رہے نیویارک سٹی کے پراسیکیوٹر وینس نے دو مرتبہ صدر ٹرمپ کے آٹھ سال کے ٹیکس ریکارڈ طلب کرنے کیلئے نوٹس بھیجا تھا جس پر تعمیل نہ ہونے کے باعث وہ معاملہ عدالت میں لے گئے تھے۔
نیویارک ریاست کا اٹارنی جنرل کا آفس صدر ٹرمپ کی کمپنی ”ٹرمپ آرگنائزیشن“ کے ریکارڈ کی چھان بین کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2016ءکے انتخابات میں دو فحش اداکاراؤں کا منہ بند کرنے کیلئے اپنے وکیل کے ذریعے رقم ادا کی تھی جن کیساتھ انہوں نے مبینہ طور پر ناجائز تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ نیویارک سٹیٹ ان ادائیگیوں کا ریکارڈ چیک کرنے کیلئے صدر ٹرمپ کے گزشتہ ٹیکس گوشواروں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔