نااہلیوں کی داستانیں بھی کم نہ ہو سکیں، پی آئی اے کو سرحد پار لگا جھٹکے پر جھٹکا

ترکمانستان کی فضائی حدود میں اوور فلائنگ کا بل سرکار کے بجائے جعلساز کو دے ڈالا۔ نااہلیوں کی داستانیں بھی کم نہ ہو سکیں۔
قومی فضائی کمپنی کو جھٹکے پر جھٹکا لگ رہا ہے۔ غیر ملکی جعلساز پی آئی اے کے پینسٹھ ہزار ڈالر لے اڑا۔ ترکمانستان کی فضائی حدود میں پی آئی اے کی پروازوں کی اوور فلائنگ کا بل جعلساز کو کر دیا گیا۔رقم سرکاری بینک کے بجائے جعلساز کے بتائے گئے بینک اکائونٹ میں منتقل کی گئی۔ مارچ 2018ء میں ستر پروازوں کی اوور فلائنگ کیلئے اپریل میں ادائیگی کی گئی۔
اصل ای میل ایڈریس پر بھیجی گئی، ای میل کے جواب میں جعلساز نے اپنا ای میل ایڈریس دیا۔ جعلی ای میل سے سرکاری بینک کے بجائے ترکی کے ایک بینک کے سوئفٹ کوڈ پر رقم منتقل کرائی گئی۔قومی ایئر لائن کے متعلقہ شعبے نے بینک تبدیلی کی تصدیق بھی جعلی ای میل ایڈریس سے کی۔ ترکمانستان کے شعبے کی جانب سے ادائیگی کی انوائس دوبارہ بھیجنے پر جعلسازی کا انکشاف ہوا۔نو ماہ قبل معاملے کی محکمانہ انکوائری کی رپورٹ پر انتظامیہ نے کارروائی نہیں کی۔ انکوائری رپورٹ میں انکشافات اور تجاویز پر ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
آڈٹ رپورٹ میں نقصان کا ذمہ دار انتظامیہ کی ناقص پلاننگ کو قرار دیا گیا۔ معاملے پر پی آئی اے انتظامیہ کو 2016ء اور نومبر 2018ءمیں آگاہ کیا گیا لیکن پی آئی اے انتظامیہ نے کروڑوں روپے کے اخراجات کا جواب ہی نہیں دیا۔