غیر ملکی فنڈنگ کیس: حکمراں جماعت کی درخواستوں پر فیصلہ آج سنایا جائے گا

الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) اسکروٹنی کمیٹی کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اکاؤنٹس کے آڈٹ پر حکمراں جماعت کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کی 4 اپیلوں پر فیصلہ آج سنایا جائے گا۔
قبل ازیں پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کیس کا جائزہ لینے کے لیے ای سی پی کا اجلاس 18 ماہ بعد یکم اکتوبر کو ہوا تھا جس میں ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان سے پارٹی میں اندرونی کرپشن اور سیاسی فنڈنگ سے متعلق قوانین کے غلط استعمال پر اختلاف کے بعد پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے 2014 میں ای سی پی میں غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق کیس دائر کیا تھا
درخواست گزار اکبر ایس بابر نے الزام لگایا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے استعمال ہونے والے غیر ملکی اکاؤنٹس کو ای سی پی میں جمع سالانہ آڈٹ رپورٹس سے چھپایا گیا تھا۔
بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار ہوگئی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔
جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا۔
جس کے بعد گزشتہ برس مارچ میں پی ٹی آئی کو ایک ماہ کے دوران بیرونِ ملک سے ہونے والی فنڈنگ کے مکمل آڈٹ کے لیے اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کے مینڈیٹ کو بعد میں ایک ماہ کے بجائے غیر معینہ مدت تک توسیع دے دی گئی تھی۔
تاہم اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی کے حوالے سے پی ٹی آئی نے متفرق درخواستیں دائر کر رکھی ہیں جن میں سے ایک درخواست میں پی ٹی آئی نے اکبر ایس بابر پر اسکروٹنی کے عمل کی معلومات میڈیا کو لیک کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
اس کے علاوہ درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ مذکورہ کیس کی کارروائی کو ٹیلی ویژن کے ٹاک شوز میں زیر بحث لا کر پی ٹی آئی کا میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے۔