ترکی کے شام پر حملے کے بعد امریکا بھی میدان میں، مائیک پومپیو نے کیا کہا؟ جانیے اس خبر میں

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے شام میں حملے کے لیے ترکی کو امریکا کی جانب سے گرین سگنل دیے جانے کی خبروں کو مسترد کردیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا نے شام میں حملے کے لیے ترکی کو کوئی گرین سگنل نہیں دیا۔
پومپیو نے امریکی صدر ٹرمپ کے شام سے فوجیں واپس بلانے کے فیصلے کا بھی دفاع کیا جسے دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ترکی کو اس کے جنوب سے دہشتگردی کا خطرہ اور مناسب سیکیورٹی خدشات تھے۔
انہوں نے کہا کہ ترکی کو شام میں حملے کے لیے امریکی اجازت کی خبریں بالکل غلط ہیں، امریکا نے ترکی کو ایسا کوئی گرین سگنل نہیں دیا۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز ترکی نے شام میں کردوں باغیوں کے زیر تسلط علاقے پر حملہ کیا۔
ترک صدر طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد سرحد پر بننے والے دہشتگردی کے راستے کو روکنا تھا۔
ترکی کا کہنا ہےکہ اس کا منصوبہ ایک ’محفوظ مقام‘ بنانا اور کرد باغیوں کا صفایا تھا جو شامی مہاجرین کا ٹھکانہ ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی کے آپریشن کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ آپریشن شمالی شام میں مقامی کرد آبادی کی نسل کشی کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔
جب کہ کرد باغیوں نے حملے کے خلاف سخت مزاحمت کا اعلان کیا ہے،کرد باغیوں اور ترک افواج کے درمیان تصادم بھی ہوا ہے۔
خیال رہے کہ کرد ملیشیا آزاد ملک کے قیام کیلئے سرگرم ہے، عراق میں کردستان کے نام سے ایک خودمختار علاقہ کردوں کو دیا گیا ہے تاہم وہ شام اور ترکی کے کچھ علاقوں کو بھی کردستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں جبکہ ترکی کرد ملیشیا کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔
2014 میں امریکی صدر باراک اوباما نے پہلی مرتبہ داعش کے خلاف شام میں فضائی آپریشن شروع کیا اور 2015 کے اواخر میں اپنے 50 فوجی بھیج کر شامی خانہ جنگی میں باضابطہ طور پر حصہ لیا۔
امریکی فوجی داعش کے خلاف لڑنے کیلئے شامی کردش ملیشیا اور جنگجوؤں کو تربیت دیتے رہے ہیں۔
20 دسمبر 2018 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں داعش کو شکست دینے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔