ترکی کی شام میں کُرد ملیشیا کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں، 16 افراد جاں بحق

ترکی کی جانب سے شام میں کُرد ملیشیا کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں جاری ہیں، ترک افواج کی بمباری کے دوران شامی کُرد ملیشیا کے 16 ارکان ہلاک ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکی کی جانب سے شام کے شمال مشرقی سرحدی علاقے راس العین میں کُرد ملیشیا کے 181 ٹھکانوں پر بمباری کی گئی جس کے دوران کُرد ملیشیا کے 16 ارکان کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
کُردوں کی سربراہی میں لڑنے والے سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اور ترک افواج کے درمیان سرحدی علاقے میں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔
ترک افواج کے حملوں کے بعد علاقے سے بڑی تعداد میں شہریوں کا انخلا جاری ہے اور مقامی افراد محفوظ مقام کی جانب جارہے ہیں۔
ترک صدر کی جانب سے فوجی کارروائی شروع کرنے کے اعلان کے بعد بدھ کے روز ترک فوج اور ان کے اتحادی شامی باغیوں نے فرات کے مشرقی علاقوں کی جانب پیش قدمی شروع کردی تھی اور کرد تنظیم پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کے زیر قبضہ علاقے تل ابیض میں جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔
سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے ترجمان مصطفیٰ بالی کا کہنا ہے کہ ان کی فورسز نے زمینی حملے کو پسپا کردیا ہے اور اب تک ترکی کی جانب سے کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی۔
ترکی اور شام کی موجودہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی آج طلب کرلیا گیا ہے جب کہ عرب لیگ نے ہفتے کو اپنا اجلاس طلب کیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر شام میں عسکری کارروائی کا سلسلہ معطل کرے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی اپنی فوجیں فوری طور پر شامی علاقے سے واپس بلائے اور حملوں کا سلسلہ بند کرے۔