ترک صدر یورپی ممالک پر برہم، ایسی دھمکی دیدی کہ یورپی خطے میں تھرتھلی مچ گئی

ترک صدر رجب طیب اردوان نے یورپی ممالک کو دھمکی دی ہے کہ اگرانہوں نے شام میں دہشت گردوں کے خلاف ترکی کی کاررائیوں پر تنقید جاری رکھی تو وہ 36 لاکھ شامی مہاجرین کو یورپ بھیج دیں گے، ان کے لیے بھی دروازے کھولیں۔
اپنی جماعت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طیب اردوان نے کہا کہ شام میں کھلے عام درجنوں دہشت گرد گروہ متحرک ہیں اور ان دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے ترک آپریشن کو تنقید کا نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ فرانس، اسرائیل، امریکا اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے ترکی کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے پر ترک صدر نے دھمکی دی کہ اگر ترکی کی کارروائی کو غاصبانہ اقدام قرار دیا گیا تو انقرہ اپنے دروازے کھول کر 36 لاکھ شامی مہاجرین کو یورپ کی طرف بھیج دے گا۔
سعودی عرب کی جانب سے آپریشن کی مخالفت پر ترک صدر نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب آئینہ میں خود کو دیکھے کہ اس نے یمن میں کیا کیا ہے جب کہ مصر دیکھے کہ اس نے ایک منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کے ساتھ کیا سلوک کیا، محمد مرسی کمرہ عدالت میں انتقال کر گئے اور ان کے خاندان کو آخری رسومات ادا کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی، تم کس قسم کے قاتل ہو۔ترک صدر نے بتایا کہ گزشتہ روز سے جاری شمالی شام میں آپریشن کے دوران اب تک 109 دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں ، گزشتہ 4 سالوں کے دوران ترکی نے 16 ہزار دہشت گردوں کو گرفتار کیا جس میں 7500 دہشت گرد ترک سرزمین اور 8500 دہشت گردوں کو بیرون ملک سے گرفتار کیا گیا۔