ترک فوج کے آپریشن سے خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں گے: سعودی عرب

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ترکی شام میں جارحیت کا مظاہرہ کررہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ ترکی فوج کے اس آپریشن سے خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں گے، فوجی کارروائی سے نہ صرف علاقائی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی بلکہ اس کے خطے میں استحکام پر بھی بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
سعودی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ داعش کے خلاف بین الاقوامی جنگ جاری ہے، ترک حکام کے حالیہ اقدامات سے جنگ متاثر ہوسکتی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ ترک فوج تیار ہے، شام میں کرد ملیشیا کے خلاف آپریشن کسی بھی لمحے شروع ہو سکتا ہے۔
ادھر امریکی فوج نے بھی ترک سرحد سے انخلا شروع کر دیا تھا، وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ امریکا کی مسلح افواج آپریشن کی حمایت نہیں کریں گی نہ ہی اس کا حصہ بنیں گی۔ خیال رہے کہ آج امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں واضح کیا ہے کہ امریکا کا شام آپریشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسری طرف شامی ڈیموکریٹک کونسل کے ایک سینئر رہ نما نے کہا تھا کہ ترکی کے عزائم خطرناک ہیں، وہ ایسی جنگ کو ہوا دینا چاہتا ہے جس کے ساتھ سرحد کے دونوں طرف خاص طور پر ترکی کے اندر بڑے پیمانے پر انتشار پھیلنے کا اندیشہ ہے۔