چینی صدر نے اچانک کیوں کیا بھارت کا دورہ؟ اس دورے نے پاکستان کو کیسے شش و پنج میں ڈال دیا؟ سنسنی خیز انکشافات سامنے آ گئے

چین کے صدر شی جن پنگ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ہمراہ سمٹ میں شرکت کے لیے بھارت پہنچ گئے۔
چین کے صدر کا چنئی ایئرپورٹ پر گورنر تامل ناڈو بنواری لال پروہت نے استقبال کیا اور اس موقع پر مقامی بھارتی ثقافت کے مطابق ڈھول بھی بجائے گئے۔
بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ اور ہفتے کو چینی صدر سے خطے اور عالمی صورتحال پر ممالاپورم میں گفتگو کریں گے۔
گزشتہ سال اپریل میں بھی دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد چین اور بھارت کے درمیان بھوٹان کے معاملے پر فوجی کشیدگی سامنے آئی تھی۔
چین، بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں 90 ہزار اسکوائر کلومیٹر کا دعویٰ کرتا ہے البتہ بھارت کا کہنا ہے کہ چین نے مغربی ہمالیہ میں اس کے 38 ہزار اسکوائر کلومیٹر علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اس سرحدی تنازع پر دونوں ممالک کے متعلقہ حکام نے 20 مرتبہ ملاقات کی تھی لیکن کوئی بھی اہم پیشرفت نہ ہو سکی تھی۔
اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان 1962 میں ایک جنگ بھی لڑی جاچکی ہے۔
چین کی جانب سے بھارت کے پڑوسی ممالک سری لنکا، نیپال، بنگلہ دیش اور مالدیپ سے بڑھتے ہوئے مراسم اور معاشی تعلقات پر بھی بھارت نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
رواں سال اگست میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد خطے میں، خصوصاً پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔
چین نے اس معاملے پر پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منعقدہ اجلاس کے دوران بھی دوٹوک موقف اپنایا تھا کہ چین، بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے بارے میں یکطرفہ طور پر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ بھارت آمد سے دو دن قبل چینی صدر نے وزیر اعظم عمران خان کی میزبانی کی تھی اور اسی وجہ سے چینی صدر کا موجودہ دورہ بھارت انتہائی اہمیت کا حامل تصور کیا جارہا ہے۔