سعودی عرب میں اچانک 3 ہزار اضافی امریکی فوجیوں کو کیوں تعینات کیا گیا؟ کیا پس پردہ کچھ ہونے والا ہےا؟ بڑی وجہ سامنے آ گئی

امریکا نے سعودی عرب کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اضافی 3 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کردیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا نے سعودی عرب میں اضافی فوجی دستے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی افواج کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ گذشتہ ماہ سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر ہونے والے میزائل حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے اس معاملے پر کسی قسم کا ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکا کی جانب سے سعودی عرب میں دو اضافی فائٹر اسکواڈرن، ایک ائیر ونگ اور ائیر ڈیفنس اہلکاروں کو تعینات کیا جارہا ہے۔
امریکی وزیر دفاع مارک ٹی ایسپر نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ مئی سے خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر امریکا نے سعودی عرب میں اضافی 3 ہزار امریکی فوجیوں اور دو ٹرمینل ہائی الٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس سسٹم (تھاڈ) بیٹریز بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس طرح سعودی عرب میں تعینات کیے جانے والے امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 14 ہزار کے قریب ہوجائے گی۔
رائٹرز کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں امریکی فوجی دستوں کی سعودی عرب روانگی کا عمل شروع ہوجائے گا۔
یاد رہے کہ 14 ستمبر 2019 کو سعودی عرب کی دو بڑی آئل فیلڈز پر حملے کیے گئے تھے جن میں آرامکو کمپنی کے بڑے آئل پروسیسنگ پلانٹ عبقیق اور مغربی آئل فیلڈ خریص شامل ہیں۔
ان حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی تھی لیکن سعودی عرب اور امریکا ان حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہیں جب کہ ایران ایسے کسی بھی اقدام کی تردید کرتارہا ہے۔
گذشتہ ماہ امریکی فوجی حکام نے سعودی عرب میں فوجیں بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مدد کی درخواست کی تھی۔
امریکی افواج ان ممالک کے فضائی اور میزائل ڈیفنس میں بہتری لائیں گی اور امریکا دونوں اقوام کے لیے فوجی سازو سامان کی ترسیل تیز کرے گا۔
سعودی عرب میں آئل تنصیبات پر حملوں کے بعد امریکی صدر نے ایران پر انتہائی سخت پابندیاں عائد کرنے کا بھی اعلان کیا تھا جب کہ انہوں نےاشارہ دیا کہ وہ فوجی تصادم نہیں چاہتے۔