مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف کے خط کے مندرجات سامنے

مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے خط کے مندرجات سامنے آگئے، انہوں نے شہباز شریف کو ہدایت کی کہ میں قید نہ ہوتا تو مولانا کیساتھ ٹرک پرکھڑا ہوتا، اب یہ ذمہ داری آپ نبھائیں، مولانا نے ن لیگ سے مدد مانگی ہے، ن لیگ ان کی حمایت کرے گی، میرے پاس کھونے کو کچھ…
سابق وزیراعظم نواز شریف آج احتساب عدالت لاہور میں پیش ہوئے، ان کو چوہدری شوگر مل کیس میں گرفتار بھی کیا گیا جبکہ احتساب عدالت نے نوازشریف کو 26 اکتوبر تک نیب کے حوالے کردیا ہے۔ نیب نے سابق وزیر نوازشریف کو ڈے کیئر سنٹر منتقل کردیا ہے۔ جہاں سابق وزیر اعظم سے چوہدری شوگر مل کیس میں انکوائری کی جائے گی۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے مارچ کی نہ صرف حمایت کرتے ہیں بلکہ اسے سپورٹ کرتے ہیں۔
دھرنے کے حوالے سے میں نے شہباز شریف کوخط کے ذریعے آگاہ کر دیا ہے۔ اس میں انہیں سب کچھ بتا دیا گیا ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ عام انتخابات کے فوری بعد مو لانا فضل الرحمن نے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا کہا تھا اُس وقت ان کی بات کو رد کرنا غلط تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کالا پانی لے جاؤ جو مرضی مقدمات بنا لو، اگر سجھتے ہیں نوازشریف سرجھکا دے گا تو ایسا نہیں ہوگا۔
دوسری جانب سابق وزیر اعظم نوازشریف کے تحریری خط کے مندرجات سامنے آگئے ہیں جس میں انہوں نے پارٹی صدر شہباز شریف کو ہدایت کی ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا مئوقف درست ہے۔
ان کی حمایت کی جائے،مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ سے سپورٹ مانگی ہے، ہم ان کی بھرپور حمایت کریں گے۔ سلیکٹڈ حکومت کے خاتمے کیلئے ن لیگ ان کے ساتھ ہے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے۔کیونکہ خاموش بیٹھنے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔
نوازشریف نے کہا کہ پارٹی کی سینئر قیادت کو بھی میرا پیغام دیں کہ مولانا کا ساتھ دینے کے نقصانات اور فوائد پر تجاویز دیں۔ نوازشریف نے کہا کہ میں نے بہت سمجھوتہ کرلیا یہ وقت اب جدوجہد کا ہے، میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں۔ میں قید نہ ہوتا تو مولانا کیساتھ ٹرک پرکھڑا ہوتا، اب یہ ذمہ داری آپ نبھائیں۔