پاک چین اقتصادی راہداری کے ثمرات نمایاں ہونے لگے، منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے پر سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اعلیٰ سطح کا چینی وفد پاکستان پہنچا۔ چینی وزیر ٹرانسپورٹ کی قیادت میں آئے وفد کی وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید سے ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے دوران سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملاقات میں ٹرانسپورٹ انفرا اسٹرکچر کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر 12 سو 70 کلو میٹر کی شاہراہیں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ گلگت سے چترال اور ڈیری غازی خان سے ژوب تک شاہراہیں تعمیر ہوں گی۔ پشاور تا ڈیرہ غازی خان، سوات ایکسپریس وے فیز 2 سمیت قراقرم ہائی وے پر کام ہوگا۔
چینی وفد کا کہنا تھا کہ منصوبے پر وزارت مواصلات نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ چینی وفد نے پاکستانی حکومت کی مہمان نوازی کو بھی سراہا۔
چینی وزیر کا کہنا تھا کہ سی پیک سے دونوں ممالک کی آئندہ نسلیں بھی مستفید ہوں گی، دونوں ملکوں کی قیادت نے منصوبے کی بروقت تکمیل کے عزم کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے بھی چینی انجینئرز کی محنت، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اولین ترجیح ہے، سی پیک سے ملازمتوں کے مواقع، انفرا اسٹرکچر اور کاروبار کو فروغ ملے گا۔
وزیر مواصلات نے سی پیک اتھارٹی کے قیام سے متعلق بھی چینی وفد کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کشمیر کے معاملے پر چینی حکومت کی حمایت پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ معاشی و اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے چین رول ماڈل ہے۔