خیبر پختونخوا کے تربیلا شہر سے پانچ بہنوں نے ملکی تاریخ کا انوکھا ریکارڈ قائم

فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے تحت سی ایس ایس امتحان برائے 2019ء کے نتائج میں پاس ہونے والی راولپنڈی کی ضحٰی ملک شیر سی ایس ایس امتحان پاس کرنے والی ایک ہی خاندان کی پانچیوں خاتون بن گئیں،ضحٰی ملک شیر کی چار بڑی بہنیں پہلے ہی سی ایس ایس پاس کر کے مختلف سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔
انچ بہنوں میں سب سے بڑی بہن لیلیٰ ملک شیر نے 2008ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور وہ اس وقت کراچی میں بورڈ آف ریونیو میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں،دوسری بہن شیریں ملک شیر نے 2010ء میں سی ایس ایس پاس کیا۔اور اس وقت وہ نیشنل ہائی وے اتھارٹ اسلام آباد میں ڈائیریکٹر ہیں۔
اسی طرح 2017ء میں سسی ملک شیر اور ماروی ملک شیر نے سی ایس ایس کے امتحان میں حصہ لیا اور دونوں پاس ہو گئیں۔ سسی ملک شیر سی ای او لاہور کنٹومنٹ میں ز یر تربیت ہیں جب کہ ماروی اسٹنٹ کمشنر ایپٹ آباد ہیں۔ جمعرات کو ان کی سب سے چھوٹی بہن ضحٰی ملک شیر نے بھی یہ امتحان پاس کر کے ممکنہ طور پر پاکستان میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ضحٰی ملک شیر کا کہنا ہے کہ میرا خواب ہے کہ میں کسی انتظامی عہدے پر فائز ہو کر پاکستان کی خدمت کروں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میری بہن کے کلاس فیلو اور سوشل میڈیا کارکن کپل دیو نے جب میرے سی ایس ایس کے امتحان پاس کرنے کے خبر پر ایک ٹویٹ کی تب سے نہ جانے کتنے لوگوں نے فون کر کے مبارکباد دی ہے۔جس سے مجھے اتنی خوشی ملی کہ میں بتا نہیں سکتی۔
ضحٰی ملک شیر کے والد محمد رفیق اعوان واپڈا میں ملازمت کرتے ہیں اور ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے تربیلا شہر سے ہے۔ وہ کئی سال پہلے ملازمت کے سلسلے میں راولپنڈی منتقل ہو گئے تھے۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنے والد سے سیکھا ہے کہ انسان ہمیشہ اپنی کمزوری کو ہی اپنی طاقت بنائے تو کچھ مشکل نہیں ہوتی۔لوگوں نے میرے والد سے پانچ بیٹیوں کی پیدائش پر افسوس کا اظہار کیا مگر آج ثابت ہو گیا کہ وہ لوگ غلط تھے۔
آج میرے والد کے پاس طاقت ہے کیونکہ ان کی بیٹیاں باوقار اور بڑے سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔ہم بہنیں پورے پاکستان کی نمائندگی کرتی ہیں۔جب کہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی پانچوں بہنوں کو خوب سراہا جا رہا ہے۔
ضحٰی ملک شیر کا کہنا ہے کہ میرے والد اپنی بیٹیوں کے نام پاکستان کی لوک داستانوں کے کرداروں کی مناسب سے رکھے ہیں۔جسے سسی، ماوری، شیرین اور لیلیٰ۔