سعودی عرب میں شہزادوں کے خلاف سخت کارروائی، اسٹاک ایکسچینج میں کھلبلی، یہ سب کیوں اور کیسے ہوا؟ اہم انکشافات سامنے آ گئے

سعودی عرب نے شہزادوں اور بڑی کاروباری شخصیات کے خلاف انسداد بدعنوانی کا نیا کریک ڈاﺅن شروع کر دیاہے اورکئی بڑی بڑی پراپرٹیاں منجمد کر دی گئی ہیں۔
”مڈل ایسٹ مانیٹر “ ویب سائٹ نے ایک آرٹیکل شائع کیا ہے اس کے مطابق ایک ٹویٹر صارف نے کچھ دستاویزات شائع کی ہیں اور انہوں نے اپنا تعارف بھی سابق سفارتکار کے طور پر کروایا  ان دستاویزات میں دکھایا گیاہے کہ سعودی حکام نے متعدد شہزادوں اور بڑی کاروباری شخصیات کی جائیدادیں منجمد کر دی ہیں ایسا معلوم ہوتاہے کہ یہ سعودی عرب کا 2017 میں کیے جانے والے کریک ڈاﺅن کے بعد دوسری کمپین ہے۔
ٹویٹر اکاﺅنٹ پر جاری کر دہ معلومات میں دعویٰ کیا گیاہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ” شیخ اجلان ال اجلان “ کی شمالی ریاض میں واقع بڑے پیمانے پر جائیداد کو فروخت سے روکنے کے بعد اب قبضے میں لے لی ہیں۔ خود کو سفارتکار ظاہر کرنے والے ٹویٹر صارف کا کہناتھا کہ حماد بن سیدین کی ملکیت میں موجود کمپنی اثاثوں کا انتظام و انصرام اور فروخت کو بھی منجمد کر دیا ہے۔
اس کریک ڈاﺅن کے باعث سعودی رئیل سٹیٹ مارکیٹ کے نرخ 50 فیصد سے بھی زائد گرنے کا خدشہ پیدا ہو گیاہے جیسا کہ 2006 میں سٹاک مارکیٹ کے ساتھ ہوا تھا۔ مڈل ایسٹ مانیٹر کی رپورٹ کے مطابق ” ریاض المستقبل رئیل سٹیٹ “ کے رئیل سٹیٹ اثاثوں کو بھی فریز کر دیا گیاہے۔
اس مرتبہ سعودی اتھارٹی کا نشانہ ایسے شہزادے اور بزنس مین ہیں جو سعودی عرب میں وسیع و عریض اراضی کے مالک ہیں اور بیشتر رئیل سٹیٹ کاروبار سے وابستہ ہیں۔2017نومبر میں انسداد بد عنوانی کمپین کے تحت سعودی عرب میں حکمران خاندان کے متعدد شہزادوں اور سابق عہدیداروں سمیت وزیروں کو بھی تحویل میں لیا گیا اور انہیں معروف ہوٹل ” ریٹز کارلٹن “ میں نظر بند کر کے رکھا گیا تھا۔
بعدازاں سعودی عرب کے اٹارنی جنرل سعود بن عبداللہ المعجب نے اشارہ دیا تھا کہ حکومت 100 بلین ڈالر سے زائد کی رقم اقتصادی سیٹلمنٹ کے ذریعے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔