سی ایس ایس کے تحریری امتحان میں کامیابی کے تناسب میں پچھلے سال کی نسبت کمی

گرتے ہوئے تعلیمی معیار کے باعث اس سال سی ایس ایس کے تحریری امتحان میں صرف 2.5 فیصد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ سی ایس ایس کے نتائج میں بہتری کے لئے کی گئی تمام اصلاحات ناکام ہو گئی ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سی ایس ایس کے امتحانات برائے 2019ء میں ساڑھے 14…
فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے مطابق رواں برس 23،403 امیدواروں نے سی ایس ایس کے امتحانات کے لیے درخواستیں دیں، ان میں سے 14،521 نے تحریری امتحان میں شرکت کی اور صرف 372 شرکا نے اس میں کامیابی حاصل کی۔
گزشتہ برس 11،887 افراد نے سی ایس ایس کے تحریری امتحان میں شرکت کی اور ان میں سے 567 (4.77 فیصد) نے کامیابی حاصل کی تھی۔
سی ایس ایس کے امتحان میں کامیاب ہونے والے 281 افراد کو کمیشن نے وفاقی حکومت میں 17ویں اسکیل کی ملازمت کے لیے سفارش کی تھی۔
2017 میں 9،391 افراد نے تحریری امتحان دیا تھا اور ان میں سے 312 (3.32 فیصد) نے اگلے مرحلے کے لیے منتخب ہو سکے تھے۔
موجودہ سال کے اوائل میں ایف پی ایس سی نے سفارش کی تھی کہ سی ایس ایس کا امتحان دینے والے افراد کا پہلے اسکریننگ ٹیسٹ ہونا چاہیے تاکہ غیرسنجیدہ امیدواروں کو اسی مرحلے میں ہی الگ کر دیا جائے۔
کمیشن کے مطابق اسکریننگ ٹیسٹ نہ صرف امتحان کا معیار بہتر بنائے گا بلکہ تمام مراحل میں کامیاب ہونے والوں کا اعلان بھی جلد کرنا ممکن ہو پائے گا۔
کمیشن کا کہنا تھا کہ ہر سال امتحان میں حصہ لینے والے امیدواروں کی تعداد بڑھ رہی ہے جس کے باعث یہ عمل سست رفتاری کا شکار ہے۔
کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سرل سروس جو ایک دور میں طلبا اور معاشرے میں احترام اور سماجی رتبے کی علامت ہوا کرتی تھی آج اپنا یہ رتبہ کھو چکی ہے۔