برآمدات میں سبسڈی، وزیراعظم آفس کے اخراجات کم اور کابینہ اراکین کی تنخواہوں میں بھی کمی کر دی گئی، مشیر خزانہ حفیظ شیخ

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہاہے کہ حکومت نے معاشی بہتری کیلئے اپنے اخراجات میں کمی کر دی ہے جبکہ وزیراعظم اور وزیراعظم آفس کے اخراجات کم کیے گئے ہیں اور کابینہ اراکین کی تنخواہوں میں بھی کمی لائی گئی ہے ۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہناتھا کہ حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کیاہے۔  آٹھ لاکھ اضافی لوگوں کو ٹیکس کے دائر ہ کارمیں لایا گیاہے ۔ رواں سال پانچ ہزار پانچ سو اراب روپے کا ٹیکس ہدف رکھا گیاہے ۔ برآمدی سیکٹر کو فروغ دیا گیا تاکہ ملازموں میں اضافہ ہوا ، پاکستان کے دو بڑے خساروں پر قابو پا لیا گیاہے ۔ گزشتہ سال پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ نو ارب ڈالر تھا تاہم تجاری خسارے میں 35 فیصدکمی ہوئی ہے اور مالیاتی خسارے میں بھی 35 فیصد کمی ہوئی ہے ۔
ان کا کہناتھا کہ ریونیو میں 16 فیصد اورٹیکس وصولیوں میں 16 فیصد اضافہ کیا گیاہے ۔  گزشتہ تین ماہ میں سٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا گیا۔  گزشتہ تین ماہ میں کوئی ضمنی گرانٹس جاری نہیں کیں۔  ٹان ٹیکس آمدنی کی مد میں 406 ارب روپے حاصل کیے ہیں اور گزشتہ سال کے مقابلے میں نان ٹیکس کی آمدنی میں سو فیصد اضافہ ہواہے ۔ ان کا کہناتھا کہ ماضی میں ایکسچینج ریٹ کوایک حدتک رکھنے کیلئے کئی ارب ڈالرضائع کیے گئے۔ 
3 ماہ سے ایکس چینج ریٹ میں استحکام آگیاہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں بیرونی تجارت پرقابوپالیا۔  برآمدات کے شعبے کوسبسڈی دی جارہی ہے،باہر سے سرمایہ کاری کیلئے 340 ملین ڈالراضافہ ہواہے،گزشتہ 5 سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ جنوری تااگست 3 لاکھ 73ہزارافرادملازمتوں کیلئے بیرون ملک گئے۔  بیرون ملک ملازمتوں کیلئے جانےوالوں میں ڈیڑھ لاکھ افرادکااضافہ ہوا ہے ۔